نیتن یاہو کے مقام کی نشاندہی پر بھارتی صحافی ادتیہ راج کی گرفتاری کی حقیقت کیا؟
ایران کے حملے سے متاثرہ مقام پر اسرائیلی وزیرِ اعظم بینجمن نیتن یاہو کے دورے کے بعد سوشل میڈیا پر ایک دعویٰ تیزی سے وائرل ہوا کہ اسرائیلی پولیس نے بھارتی صحافی ادیتیہ راج کول کو گرفتار کر لیا ہے۔
فائل فوٹو
تل ابیب: (ویب ڈیسک)ایران کے حملے سے متاثرہ مقام پر اسرائیلی وزیرِ اعظم بینجمن نیتن یاہو کے دورے کے بعد سوشل میڈیا پر ایک دعویٰ تیزی سے وائرل ہوا کہ اسرائیلی پولیس نے بھارتی صحافی ادیتیہ راج کول کو گرفتار کر لیا ہے۔

سوشل میڈیا پر گردش کرنے والی ایک پوسٹ میں کہا گیا کہ ادیتیہ راج کول کو اس لیے حراست میں لیا گیا کیونکہ انہوں نے رپورٹنگ کے دوران نیتن یاہو کے مقام کا انکشاف کر دیا تھا، جب وہ اس جگہ سے رپورٹنگ کر رہے تھے جہاں ایران کے میزائل حملے میں نقصان ہوا تھا۔

وائرل ویڈیو میں ادیتیہ راج کول کو ایک تباہ شدہ مقام سے رپورٹنگ کرتے دیکھا جا سکتا ہے، اسی ویڈیو میں بینجمن نیتن یاہو کو بھی اس مقام کا دورہ کرتے ہوئے دکھایا گیا جہاں وہ حملے سے ہونے والی تباہی کا جائزہ لے رہے تھے۔

حساس صورتحال کے باعث سوشل میڈیا صارفین کی بڑی تعداد نے اس دعوے کو فوراً سچ سمجھ لیا اور اسے تیزی سے شیئر کرنا شروع کر دیا تاہم جب اس معاملے کی تفصیلی جانچ کی گئی تو معلوم ہوا کہ یہ دعویٰ درست نہیں ہے۔

یہ بھی پڑھیں: آبنائے ہرمزکھلوانے کیلئے ٹرمپ کی اپیل پردنیا کی سرد مہری

اس خبر کی تصدیق کے لیے کلیدی الفاظ کے ذریعے تلاش کی گئی جس کے بعد ادیتیہ راج کول کا سوشل میڈیا پلیٹ فارم ایکس پر موجود آفیشل اکاؤنٹ سامنے آیا، وہاں ان کی سرگرمیوں سے واضح ہوا کہ انہیں گرفتار نہیں کیا گیا اور وہ معمول کے مطابق پوسٹس کر رہے تھے۔

انہوں نے 16 مارچ 2026 کو اس افواہ سے متعلق ایک رپورٹ کا اسکرین شاٹ شیئر کرتے ہوئے لکھا کہ "اگر آپ نے میرے بارے میں انٹرنیٹ پر کچھ جعلی کہانیاں پڑھی ہیں تو ان پر اندھا یقین نہ کریں، یہ بھارت میں ایک مایوس سیاسی جماعت کے آئی ٹی سیل کی جانب سے پھیلائی جانے والی جعلی خبر ہے اور وہ بڑے پیمانے پر غلط معلومات کی مہم چلا رہے ہیں، اس پیغام کو پھیلائیں۔

اس سے پہلے ایک اور پوسٹ میں انہوں نے وائرل ویڈیو کی وضاحت کرتے ہوئے کہا کہ یہ صرف اسرائیل میں ان کی معمول کی صحافتی رپورٹنگ کا حصہ تھا۔

انہوں نے لکھا کہ اسرائیل کے شہر بیت الشمس سے این ڈی ٹی وی کے لیے 2 مارچ کو شام ساڑھے 4 بجے کی رپورٹنگ، جہاں اسرائیلی وزیرِ اعظم نیتن یاہو ایرانی میزائل حملے کے ایک دن بعد نقصانات کا جائزہ لینے آئے تھے، اس حملے میں بچوں سمیت 9 افراد ہلاک اور 40 زخمی ہوئے تھے، اس ویڈیو کے بارے میں بے بنیاد غلط معلومات پھیلائی جا رہی ہیں۔

اس کو بھی پڑھیں: آپریشن وعدہ صادق 4، ایران کا تل ابیب پر ہائپرسونک میزائلوں سے حملہ

مزید تحقیق سے یہ بھی سامنے آیا کہ یہ ویڈیو دراصل 2 مارچ 2026 کو ریکارڈ کی گئی تھی جب ایرانی میزائل حملے کے بعد بینجمن نیتن یاہو متاثرہ علاقے کا دورہ کرنے آئے تھے، یہ ویڈیو ایک نیوز رپورٹ کا حصہ تھی اور اس کا نیتن یاہو کے خفیہ مقام کے انکشاف سے کوئی تعلق نہیں تھا۔

اس طرح واضح ہو گیا کہ ادیتیہ راج کول کی اسرائیلی پولیس کے ہاتھوں گرفتاری کا دعویٰ مکمل طور پر غلط اور بے بنیاد ہے، اس حوالے سے کسی بھی سرکاری یا معتبر ذریعے نے اس خبر کی تصدیق نہیں کی۔ 

ضرور پڑھیں