یہ اجلاس چیئرمین بی ایس ای کے غلام حسین سوہو کی صدارت میں منعقد ہوا جس میں اس بات پر زور دیا گیا کہ امتحانی پرچوں کو صرف رٹہ سسٹم پر مبنی سوالات سے ہٹا کر ایسے سوالات پر مشتمل بنایا جائے جو طلبہ کی سمجھ بوجھ اور علم کو عملی طور پر استعمال کرنے کی صلاحیت کو جانچ سکیں۔
اجلاس میں اس بات پر اتفاق کیا گیا کہ مستقبل کے امتحانی پرچوں میں طلبہ کی فہم، تجزیاتی صلاحیت اور اعلیٰ سطح کی سوچ کو پرکھا جائے گا نہ کہ صرف یاد کی گئی معلومات پر انحصار کیا جائے گا۔
اس مقصد کے لیے چند اہم فیصلے کیے گئے جن میں سوالات کی متوازن تقسیم کو یقینی بنانا اور واضح مارکنگ اسکیم متعارف کروانا شامل ہیں۔
یہ بھی پڑھیں: سندھ بھر میں 23 مارچ کو عام تعطیل کا اعلان
انہوں نے کہا کہ کانسیپٹ بیسڈ امتحانی نظام طلبہ کی ذہنی اور فکری صلاحیتوں کو بہتر بنانے میں مدد دے گا اور امتحانات میں نقل کے امکانات بھی کم ہوں گے۔
اجلاس میں یہ بھی فیصلہ کیا گیا کہ آئندہ امتحانی پرچوں کی تیاری چیئرمین بی ایس ای کے اور کنٹرولر آف ایگزامینیشنز کی نگرانی میں کی جائے گی تاکہ شفافیت اور معیار کو مزید بہتر بنایا جا سکے۔ اس کے علاوہ پیپر تیار کرنے والے اساتذہ کو سفری اخراجات بھی فراہم کیے جائیں گے۔
غلام حسین سوہو نے مزید کہا کہ اگلے سال سے بورڈ باقاعدگی سے پیپر سیٹرز سے مشاورت جاری رکھے گا تاکہ امتحانی نظام میں اصلاحات جاری رہیں اور سوالات کی تیاری کو جدید تعلیمی طریقوں کے مطابق رکھا جا سکے۔