جرمنی نے ٹرمپ کے پیغام پر ردعمل میں کہا کہ ٹرمپ ہم سے کیا توقع رکھتے ہیں کہ چند یورپی فوجی قوتیں وہ کام کر لیں گی جو طاقتور امریکی بحریہ نہیں کر سکی؟ یہ جنگ ہماری نہیں ہے اور نہ ہی ہم نے اسے شروع کیا ہے۔
آسٹریلیا نے فوجی تعاون سے انکار کرتے ہوئے کہا کہ ہم آبنائے ہرمز میں کوئی جہاز نہیں بھیجیں گے۔
برطانیہ کی جانب سے کہا گیا کہ آبنائے ہرمز کو دوبارہ کھولنا کوئی آسان کام نہیں، برطانیہ ایران کے خلاف جاری جنگ کا حصہ نہیں بنے گا، آبنائے ہرمز کا معاملہ نیٹو کا مشن نہیں بنے گا۔
یہ بھی پڑھیں: امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی نیٹو ممالک کو سخت وارننگ
برطانوی وزیراعظم نے کہا کہ مشرق وسطیٰ میں جاری جنگ کو فوری طور پر ختم ہونا چاہیے کیونکہ جنگ کے باعث پٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں میں اضافہ ہوا ہے اور عالمی معیشت متاثر ہو رہی ہے، وزیراعظم نے کہا کہ جنگ کے خاتمے کے بعد ایران کے ساتھ کسی نہ کسی معاہدے کے لیے مذاکرات کرنا ہوں گے۔
فرانس کی جانب سے کہا گیا کہ آبنائے ہرمز میں کوئی بحری جہاز بھیجنے کا سوال ہی پیدا نہیں ہوتا، جاپان نے کہا کہ موجودہ حالات جاپان کی فوجی شرکت کے متقاضی نہیں ہیں، جنوبی کوریا کی جانب سے کہا گیا کہ ہم صدر ٹرمپ کے بیانات کا بغور جائزہ لے رہے ہیں تاہم چین کی جانب سے ٹرمپ کی درخواست پر فی الحال کوئی ردعمل سامنے نہیں آیا۔