غیر ملکی میڈیا رپورٹس کے مطابق اسرائیل کی وزارتِ انصاف نے وزیراعظم نیتن یاہو کو کرپشن کیسز میں صدارتی معافی دینے کی سفارش نہ کرنے کا فیصلہ کیا ہے، وزارتِ انصاف کے پارڈن ڈیپارٹمنٹ نے اپنی قانونی رائے مکمل کرنے کے بعد اسرائیلی صدر اسحاق ہرزوگ کو بھیج دی۔
وزارتِ انصاف کے پارڈن ڈپارٹمنٹ نے اپنی رائے میں کہا ہے کہ وزیراعظم کی معافی کی درخواست قانونی تقاضوں پر پوری نہیں اترتی اس لیے معافی دینا مشکل ہو گا۔
خیال رہے کہ بینجمن نیتن یاہو کے خلاف مقدمہ ابھی زیرِ سماعت ہے اور انہیں ابھی تک کسی جرم میں سزا نہیں سنائی گئی۔
علاوہ اسرائیلی وزیراعظم نے اپنی معافی کی درخواست میں نہ تو جرم کا اعتراف کیا ہے اور نہ ہی کسی قسم کے پچھتاوے کا اظہار کیا ہے جو قبل از وقت معافی کے لیے اہم شرط سمجھی جاتی ہے۔
یہ بھی پڑھیں: ایران کے ساتھ لامتناہی جنگ کی خواہاں نہیں ہیں، اسرائیلی وزیر خارجہ
اسرائیل کی ہائی کورٹ پہلے ہی یہ قرار دے چکی ہے کہ کسی شخص کو سزا سے پہلے بھی معافی دی جا سکتی ہے لیکن اس کے لیے شرط ہے کہ درخواست گزار اپنے جرم کا اعتراف کرے۔
واضح رہے کہ 2019 میں اسرائیلی پراسیکیوٹر جنرل کی جانب سے بینجمن نیتن یاہو پر رشوت، فراڈ اور اعتماد کو ٹھیس پہنچانے کے الزامات عائد کیے گئے تھے، اگلے ہی برس تل ابیب ڈسٹرکٹ کورٹ میں اسرائیلی وزیراعظم کے خلاف باقاعدہ مقدمے کی سماعت شروع ہوئی تھی۔
اس کے بعد 5 برس تک ہونے والی مختلف سماعتوں کے دوران ملزم کے خلاف ٹھوس شواہد بھی عدالت میں پیش کیے گئے تاہم نیتن یاہو ان تمام الزامات سے انکاری رہے۔
البتہ گزشتہ برس 2025 میں اسرائیلی وزیراعظم نیتن یاہو نے اپنے خلاف جاری کرپشن کیسز کے دوران صدارتی معافی کی درخواست دائر کی تھی۔
جس پر ملک بھر میں متضادات رائے سامنے آئی تھیں اور اب وزارتِ انصاف کے پارڈن ڈپارٹمنٹ نے نیتن یاہو کی معافی کی سفارش نہ کرنے کی قانونی رائے تیار کر لی تاہم حتمی فیصلہ صدر اسحاق ہرزوگ صوابدید پر منحصر ہے۔