رجب بٹ نے اہلیہ ایمان کی جذباتی پوسٹ پر ردعمل دیدیا
معروف یوٹیوبر، سوشل میڈیا انفلوئنسر اور ٹک ٹاکر رجب بٹ نے اہلیہ ایمان اسدکے جذباتی بیان پر ردعمل دے دیا۔
فائل فوٹو
لاہور: (ویب ڈیسک) معروف یوٹیوبر، سوشل میڈیا انفلوئنسر اور ٹک ٹاکر رجب بٹ نے اہلیہ ایمان اسدکے جذباتی بیان پر ردعمل دے دیا۔

حالیہ دنوں میں رجب بٹ کی شادی اور طلاق کا موضوع سوشل میڈیا پر زیر بحث ہے،دو روز قبل رجب نے ایک پوڈ کاسٹ کے دوران اپنی طلاق کے فیصلے کی تصدیق کرتے ہوئے اس رشتے کوختم کرنے کا اعلان کیا تھا۔

پوڈ کاسٹ کے دوران گفتگو کرتے ہوئے رجب بٹ نے کہا تھا کہ میں اب اس رشتے کو بچانے کی مزید کوشش نہیں کروں گا جس کے بعد انہوں نے اپنی اہلیہ ایمان اسد کو طلاق کا باضابطہ قانونی نوٹس بھی بھجوا دیا۔

ایمان نے گزشتہ شب اپنے سوشل میڈیا اکاؤنٹ پر ایک جذباتی سٹوری شیئر کی جس میں طلاق کے کاغذات دکھاتے ہوئے بتایا کہ علیحدگی کے بعد وہ اور ان کا بیٹا کیوان مشکل وقت سے گزر رہے ہیں، ان کے اس بیان کے بعد معاملہ مزید زیر بحث آگیا۔

اس کے جواب میں رجب بٹ نے ویڈیو میں ردعمل دیتے ہوئے کہا کہ میں اس رشتے کو باوقار طریقے سے ختم کرنا چاہتا ہوں، شادی کے معاملات کو سوشل میڈیا پر لانا میری غلطی تھی اور یہ مسائل قانونی طریقے سے حل ہونے چاہئیں تھے۔

یہ بھی پڑھیں: رجب بٹ نے اہلیہ ایمان کو طلاق کے کاغذ بھجوا دیئے

رجب بٹ نے مزید کہا کہ اگر کوئی رشتہ درست طریقے سے نہیں چل رہا تو قانون اور مذہب دونوں ہی اس بات کی اجازت دیتے ہیں کہ اسے عزت کے ساتھ ختم کر دیا جائے،دونوں فریقین نے اس معاملے پر سوشل میڈیا پر بات کر کے غلطی کی۔

انہوں نے ایمان اسد کی انسٹاگرام اسٹوری پر ردعمل دیتے ہوئے کہا کہ سوشل میڈیا پر بات کرنے کے بجائے براہ راست بات چیت کی جا سکتی تھی، مجھے یا میرے گھر والوں کو ایک پیغام ہی بھیج دیا ہوتا تو بہتر رہتا،اس طرح کی پوسٹس سے صرف لوگوں کی ہمدردی حاصل کرنے کی کوشش کی گئی۔

رجب بٹ نے یہ بھی واضح کیا کہ وہ اب اپنی ذاتی زندگی یا طلاق کے معاملے پر مزید سوشل میڈیا پر بات نہیں کریں گے اور ایمان کی فیملی جسے چاہے انٹرویو دے یا ان کے خلاف بیانات دے انہیں کوئی فرق نہیں پڑتا ، شریعت کے مطابق پہلا نوٹس بھیجا جا چکا ہے اور باقی قانونی مراحل وقت کے ساتھ مکمل کیے جائیں گے۔

دوسری جانب سوشل میڈیا پر ان کے مداحوں کی بڑی تعداد دونوں کو مشورہ دے رہی ہے کہ وہ اپنے بیٹے کی خاطر معاملات کو آپس میں بیٹھ کر حل کرنے کی کوشش کریں۔ 

ضرور پڑھیں