یہ اقدام انٹرنیشنل لیبر آرگنائزیشن کے تعاون سے شروع کیا گیا ہے۔ اس منصوبے کے تحت بینظیر ویمن ایگریکلچر ورکرز کارڈ بھی متعارف کرایا جائے گا اور خواتین مزدوروں کی فلاح و بہبود کے لیے 50 کروڑ روپے کا انڈومنٹ فنڈ قائم کیا جائے گا۔
سندھ کے سینئر وزیر شرجیل میمن نے کہا کہ ان اقدامات کے ذریعے زرعی شعبے میں خواتین کی خدمات کو باضابطہ طور پر تسلیم کیا جا رہا ہے اور یہ پاکستان میں اپنی نوعیت کا پہلا اقدام ہے۔
تعلیم کے شعبے میں کابینہ نے اسٹوڈنٹ اٹینڈنس مانیٹرنگ اینڈ ریڈریس سسٹم (سامرز) کی منظوری بھی دی ہے۔ یہ ایک ڈیجیٹل پلیٹ فارم ہوگا جو اسکولوں میں طلبہ کی حاضری اور داخلوں کی نگرانی کرے گا۔
یہ بھی پڑھیں: آئی ٹی انٹرن شپ پروگرام، 50 ہزار روپے ماہانہ وظیفہ کا اعلان
یہ نظام طلبہ کی غیر حاضری پر نظر رکھے گا اور ضرورت پڑنے پر مشاورت اور ساتھی طلبہ کی مدد جیسے اقدامات فراہم کرے گا۔ اس نظام کو ایک سال کے اندر پورے صوبے میں نافذ کیا جائے گا۔
وزیر نے مزید کہا کہ حکومت صوبے میں خواتین کو بااختیار بنانے، انفراسٹرکچر کی ترقی اور تعلیمی اصلاحات کے لیے پرعزم ہے۔