پاسدارانِ انقلاب کی جانب سے جاری بیان میں کہا گیا ہے کہ اس تازہ کارروائی کا مقصد خطے میں موجود امریکی اور اسرائیلی فوجی مراکز کو نشانہ بنانا تھا۔ ایرانی حکام کے مطابق تقریباً تین گھنٹے تک میزائل حملوں کا سلسلہ جاری رہا جس میں متعدد اہداف کو نشانہ بنایا گیا۔
بیان کے مطابق حملوں کے دوران عراق کے شہر اربیل میں موجود بعض عسکری مراکز کو نشانہ بنایا گیا جبکہ بحرین میں تعینات امریکی بحریہ کے پانچویں بیڑے کے ہیڈکوارٹر کو بھی ہدف بنایا گیا۔ اسی طرح اسرائیل کے اہم شہر تل ابیب میں واقع فوجی تنصیبات پر بھی میزائل حملے کیے گئے۔
ایرانی حکام کا کہنا ہے کہ جنوبی تل ابیب میں قائم سیٹلائٹ مواصلاتی مرکز کو ایک مرتبہ پھر نشانہ بنایا گیا ہے۔ اس سے قبل بھی اس مرکز پر حملہ کیا جا چکا تھا۔ مزید یہ کہ مقبوضہ بندرگاہ حیفہ بھی ایرانی میزائل حملوں کی زد میں آئی ہے جہاں متعدد دھماکوں کی اطلاعات سامنے آئی ہیں۔
یہ بھی پڑھیں: شمالی کوریا نے کروز میزائل کا تجربہ کرلیا
پاسدارانِ انقلاب کے مطابق اس کارروائی میں ایران کے جدید اور طاقتور میزائل استعمال کیے گئے جن میں خیبر شکن، قدر اور ختم شہر میزائل شامل ہیں۔ ایرانی حکام کے مطابق ان میزائلوں میں متعدد وارہیڈز نصب تھے جس کی وجہ سے ان کی تباہ کن صلاحیت مزید بڑھ جاتی ہے۔ خاص طور پر قدر میزائل کے بارے میں بتایا گیا ہے کہ اس کے وارہیڈ کا وزن تقریباً ایک ٹن تک ہے جو بڑے اہداف کو شدید نقصان پہنچانے کی صلاحیت رکھتا ہے۔
آئی آر جی سی کے مطابق آپریشن وعدہ صادق 4 گزشتہ ماہ اس وقت شروع کیا گیا تھا جب امریکا اور اسرائیل کی جانب سے ایران کے خلاف فوجی کارروائیوں کا آغاز ہوا۔ ایران کا کہنا ہے کہ یہ حملے دراصل اسی کارروائی کا جواب ہیں۔
ماہرین کے مطابق اس آپریشن کے بعد مشرقِ وسطیٰ میں کشیدگی مزید بڑھ گئی ہے اور خطے کے کئی ممالک صورتحال پر گہری نظر رکھے ہوئے ہیں۔ ایرانی حکام نے عندیہ دیا ہے کہ اگر ایران کے خلاف کارروائیاں جاری رہیں تو مزید حملے بھی کیے جا سکتے ہیں جس سے خطے میں کشیدگی مزید شدت اختیار کر سکتی ہے۔