ایران حملے بند کرے ورنہ سخت نتائج بھگتنا پڑیں گے، سعودی عرب
Saudi Iran War 2026
فائل فوٹو
ریاض:(ویب ڈیسک) سعودی عرب نے حالیہ حملوں کی سخت مذمت کرتے ہوئے ایران کو خبردار کردیا ہے۔

سعودی عرب نے ایران کو سخت الفاظ میں متنبہ کرتے ہوئے کہا ہے کہ اگر عرب ممالک پر حملوں کا سلسلہ بند نہ ہوا تو اسکے نتائج کی زمہ داری تہران پر عائد ہوگی اور کہا کہ شہری مقامات، ہوائی اڈوں اور تیل کی تنصیبات کو نشانہ بنانا خطے کے امن و استحکام کو جان بوجھ کر خطرے میں ڈالنے کے مترادف ہے۔
بیان میں کہا گیا کہ ایسے اقدامات بین الاقوامی قوانین اور انسانی اصولوں کی کھلی خلاف ورزی ہیں، سعودی عرب نے مزید واضح کیا کہ مملکت اور دیگر خلیجی، عرب اور اسلامی ممالک کی خودمختاری پر کسی بھی قسم کا حملہ ناقابل قبول ہے اور اسکا بھرپور جواب دیا جائے گا۔
اسی کے ساتھ سعودی وزارت خارجہ نے ایران کے اس دعوے کو بھی مسترد کر دیا کہ مملکت نے ایران کے خلاف کسی فوجی کاروائی کے لیے اپنے اڈے استعمال کرنے کی اجازت دی ہے، فضائی حدود میں موجود طیارے کسی حملے کے لیے نہیں بلکہ صرف ایرانی میزائلوں اور ڈرونز کے ممکنہ خطرات سے دفاعی نگرانی کے لیے گشت کررہے تھے۔

بیان میں مزید کہا گیا کہ یہ اقدامات صرف خلیج تعاون کونسل کے رکن ممالک کی فضائی حدود کے تحفظ اور خطے کے امن کو برقرار رکھنے کے لیے کیے جا رہے ہیں، سعودی عرب نے اس بات پر بھی زور دیا کہ ایران کی جانب سے حملوں کا تسلسل خطے میں کشیدگی کو مزید بڑھا سکتا ہے جس سے نہ صرف موجودہ صورتحال بگڑے گی بلکہ دونوں ممالک کے مستقبل کے تعلقات بھی متاثرہوں گے۔

ایرانی ڈرون حملہ، بحرین کی سب سے بڑی آئل ریفائنری سے دھواں اٹھنے لگا:یہ بھی پڑھیں
مملکت نے عالمی برادری سے مطالبہ بھی کیا کہ وہ ان جارحانہ اقدامات کا سنجیدگی سے نوٹس لے اور خطے میں امن و استحکام برقرار رکھنے کے لیے موثر کردار ادا کرے۔
 

 

 

ضرور پڑھیں