برطانوی میڈیا رپورٹس کے مطابق ایران کی مجلس خبرگان کی اکثریت مجتبیٰ خامنہ کے انتخاب پر متفق ہے تاہم چند اراکین کی رائے مختلف ہے لیکن اس کے پیچھے کوئی سیاسی مقصد نہیں ، اختلاف رائے مخلصانہ نوعیت کا ہے۔
عرب میڈیا کے مطابق سپریم لیڈر کے باضابطہ اعلان میں سکیورٹی خدشات کے باعث تاخیر کی جا رہی ہے،مجلس خبرگان کے اراکین کے درمیان نئے سپریم لیڈر سے براہ راست ملاقات کی روایت پوری کرنے کے طریقہ کار پر بھی بحث جاری ہے۔
ادھر رکن مجلس خبرگان میر باقری نے کہا ہے کہ قیادت کے انتخاب کے عمل میں چند رکاوٹیں ابھی باقی ہیں جنہیں حل کیا جا رہا ہے۔
رکن ایرانی مجلس خبرگان احمد عالم الہدیٰ نے کہا کہ نئے سپریم لیڈر منتخب کرلیا گیا ہے، ووٹنگ ہو چکی، نام کا باضابطہ اعلان بعد میں ہو گا۔
یہ بھی پڑھیں: ہرگز ہتھیار نہیں ڈالیں گے، ایران مزاحمت جاری رکھے گا، عراقچی
دوسری جانب ایرانی وزیر خارجہ عباس عراقچی نے امریکی میڈیا کو دیے گئے ایک انٹرویو میں کہا کہ اگلا سپریم لیڈر کون ہو گا؟ کسی کو معلوم نہیں، نئے سپریم لیڈر کے بارے میں بہت سی افواہیں گردش کر رہی ہیں، مجلس خبرگان کے اجلاس اور نئے سپریم لیڈر کے انتخاب تک انتظار کرنا ہو گا۔
اس حوالے سے ان کا مزید کہنا تھا کہ جس کسی کو بھی مجلس خبرگان منتخب کرے گی، وہی ایران کا اگلا سپریم لیڈر ہو گا،عوام پہلے ہی مجلس خبرگان کو منتخب کر چکے، اب مجلس خبرگان اپنی ذمہ داری پوری کرے گی۔