اس اقدام کا مقصد STEM کے شعبوں میں خواتین کے لیے مواقع بڑھانا، سائنس اور جدت میں خواتین کی قیادت کو فروغ دینا اور اس شعبے کو زیادہ متنوع اور جامع بنانا ہے۔
اس اسکالرشپ کے تحت برطانیہ کی معروف جامعات اور تحقیقی اداروں میں ایک سالہ ماسٹرز ڈگری پروگرام پیش کیے جاتے ہیں۔ اب تک اس پروگرام کے تحت43 برطانوی یونیورسٹیز کے ساتھ شراکت داری کی جا چکی ہے اور دنیا بھر میں تقریباً 500 اسکالرشپس دی جا چکی ہیں۔
2026–27 کے لیے ہر اسکالرشپ کی مالیت کم از کم £40,000 ہے جس میں ٹیوشن فیس، رہائشی اخراجات، سفر کے اخراجات، ویزا فیس، صحت کی سہولت اور انگریزی زبان کی معاونت شامل ہے۔
دنیا بھر میں30 ممالک کے لیے 90 اسکالرشپس دستیاب ہیں جن میں سے25 اسکالرشپس جنوبی ایشیا کے درخواست دہندگان کے لیے مختص ہیں جو برطانیہ کی پانچ یونیورسٹیز کے تعاون سے فراہم کی جائیں گی۔
یہ بھی پڑھیں: خواتین میں مفت پنک الیکٹرک اسکوٹر تقسیم کرنے کا اعلان
پاکستان میں برٹش کونسل کے کنٹری ڈائریکٹر جیمز ہیمپسن نے کہا کہ یہ پروگرام باصلاحیت پاکستانی خواتین کو برطانیہ میں عالمی معیار کی تعلیم تک رسائی دینے اور انہیں مستقبل میں STEM کے شعبوں میں رہنما بنانے کے عزم کی عکاسی کرتا ہے۔
برٹش کونسل میں ڈاکٹر جین بارڈزلی، گلوبل ہیڈ آف اینیبلنگ ریسرچ اینڈ سائنس، نے کہا کہ یہ اقدام خواتین کے لیے STEM کیریئر میں موجود رکاوٹوں کو کم کرنے اور سائنسی تحقیق و جدت میں زیادہ تنوع کو فروغ دینے میں مدد دیتا ہے۔
ویمن اِن STEM اسکالرشپس کے لیے درخواستیں اپریل 2026 کے آخر تک جمع کرائی جا سکتی ہیں۔