مشرقِ وسطیٰ میں کشیدگی کم کرنے کیلئے سعودی عرب کی سفارتکاری تیز
Saudi Arabia Middle East diplomacy
فائل فوٹو
ریاض: (ویب ڈیسک) مشرقِ وسطیٰ میں بڑھتی ہوئی کشیدگی کے تناظر میں سعودی عرب نے سفارتی کوششیں تیز کرتے ہوئے بیک ڈور ڈپلومیسی کا آغاز کر دیا ہے تاکہ خطے میں ممکنہ جنگ کے خطرے کو کم کیا جا سکے۔

بین الاقوامی خبر رساں ادارے کے مطابق سعودی قیادت مختلف ممالک سے رابطے کر کے کشیدگی کم کرنے کی کوششوں میں مصروف ہے۔

رپورٹ کے مطابق سعودی ولی عہد محمد بن سلمان نے براہ راست ایران سے بھی رابطے کیے ہیں تاکہ موجودہ تنازع کو مزید شدت اختیار کرنے سے روکا جا سکے۔

اس کے ساتھ انہوں نے یورپی ممالک کو بھی اعتماد میں لیتے ہوئے زور دیا ہے کہ وہ خطے میں امن کے قیام اور ممکنہ جنگ کو روکنے کیلئے فعال کردار ادا کریں۔

سعودی وزارت خارجہ کے مطابق سعودی ولی عہد اور کیئر اسٹارمر کے درمیان ٹیلیفونک رابطہ بھی ہوا جس میں ایران سے متعلق صورتحال اور مشرقِ وسطیٰ میں پیدا ہونے والی کشیدگی پر تفصیلی تبادلہ خیال کیا گیا، دونوں رہنماؤں نے خطے میں امن و استحکام کی ضرورت پر زور دیا۔

یہ بھی پڑھیں:ایران کا پڑوسی ممالک کو نشانہ نہ بنانے کا اعلان

اس کے علاوہ سعودی ولی عہد نے رجب طیب اردوان سے بھی ٹیلیفونک گفتگو کی جس میں خطے کی بدلتی صورتحال اور ممکنہ سفارتی اقدامات پر بات چیت ہوئی۔ دوسری جانب قبرص کے صدر نے بھی سعودی ولی عہد سے رابطہ کر کے مشرقِ وسطیٰ کی صورتحال پر تبادلہ خیال کیا۔

تجزیہ کاروں کا کہنا ہے کہ سعودی عرب کی جانب سے شروع کی گئی یہ سفارتی سرگرمیاں خطے میں کشیدگی کم کرنے اور ممکنہ بڑے تصادم کو روکنے میں اہم کردار ادا کر سکتی ہیں، جبکہ عالمی برادری بھی صورتحال پر گہری نظر رکھے ہوئے ہے۔

ضرور پڑھیں