ایرانی صدر مسعود پزشکیان نے اہم پالیسی بیان میں کہا کہ عبوری لیڈرشپ کونسل نے یہ فیصلہ کیا ہے کہ پڑوسی ممالک کے خلاف کسی قسم کے حملے یا میزائل کارروائی کی منظوری نہیں دی جائے گی۔ ان کا کہنا تھا کہ ایران کا اپنے ہمسایہ ممالک کے ساتھ کوئی دشمنی کا ارادہ نہیں اور اگر موجودہ صورتحال سے کسی پڑوسی ملک کو تشویش ہوئی ہے تو ایران اس پر افسوس کا اظہار کرتا ہے۔
یہ بھی پڑھیں: آرمی چیف کا دورہ سعودی عرب، وزیر دفاع سے اہم ملاقات
انہوں نے کہا کہ ایران ہمیشہ خطے میں امن، استحکام اور تعاون کا حامی رہا ہے اور اس پالیسی کو جاری رکھا جائے گا۔ ایرانی صدر کے مطابق موجودہ کشیدگی کے باوجود ایران خطے کے ممالک کے ساتھ تعلقات کو بہتر بنانے اور غلط فہمیوں کو ختم کرنے کے لیے سفارتی کوششیں جاری رکھے گا۔
ایرانی صدر مسعود پزشکیان نے اس بات پر بھی زور دیا کہ موجودہ جنگی صورتحال کے خاتمے کے لیے ثالثی کی کوششیں ان ممالک کی جانب سے ہونی چاہئیں جنہوں نے اس تنازع کو جنم دیا۔ ان کا کہنا تھا کہ چند ممالک نے پہلے ہی اس حوالے سے ثالثی کی کوششیں شروع کر دی ہیں اور ایران ان سفارتی اقدامات کو مثبت پیش رفت سمجھتا ہے۔
انہوں نے مزید کہا کہ ایران خطے میں امن کے قیام کے لیے سنجیدہ ہے اور کشیدگی کم کرنے کے لیے ہر ممکن سفارتی راستہ اختیار کرنے کو تیار ہے۔ تاہم انہوں نے واضح کیا کہ اگر ایران کی سرزمین، خود مختاری یا قومی وقار کو خطرہ لاحق ہوا تو ملک اپنے دفاع کے لیے ہر ممکن اقدام کرے گا۔