پاک فوج کے شعبہ تعلقات عامہ (آئی ایس پی آر) کے مطابق ملاقات کے دوران خطے میں پیدا ہونے والی سیکیورٹی صورتحال پر تفصیلی تبادلہ خیال کیا گیا، خصوصاً ایران کی جانب سے ڈرون اور میزائل حملوں کے بعد پیدا ہونے والی کشیدگی اور اس کے ممکنہ اثرات پر گفتگو کی گئی۔
یہ بھی پڑھیں: افغان سرزمین کا پاکستان کیخلاف استعمال ناقابل قبول ہے: فیلڈ مارشل
ملاقات میں پاکستان اور سعودی عرب کے درمیان دفاعی تعاون کو مزید مضبوط بنانے اور مشترکہ دفاعی اقدامات پر بھی غور کیا گیا۔ دونوں رہنماؤں نے اس بات پر زور دیا کہ بلا اشتعال جارحیت خطے میں امن اور استحکام کی کوششوں کو نقصان پہنچاتی ہے اور ایسی صورتحال سے بچنے کے لیے دانشمندی اور تحمل کا مظاہرہ ضروری ہے۔
آئی ایس پی آر کے مطابق ملاقات کے دوران دونوں ممالک نے ایران سے امید ظاہر کی کہ وہ موجودہ کشیدہ صورتحال میں تحمل اور حکمت کا مظاہرہ کرے گا تاکہ خطے میں مزید کشیدگی پیدا نہ ہو۔ اس کے ساتھ ساتھ پاکستان اور سعودی عرب نے بحران کے پرامن اور سفارتی حل کی حمایت پر بھی زور دیا۔
بیان کے مطابق دونوں ممالک کی قیادت نے اس بات کا اعادہ کیا کہ مشرقِ وسطیٰ میں امن و استحکام برقرار رکھنے کے لیے مشترکہ کوششیں جاری رکھی جائیں گی اور علاقائی سلامتی کے لیے قریبی تعاون کو مزید فروغ دیا جائے گا۔