امارات کی وزیرمملکت برائے بین الاقوامی تعاون ریم الہاشمی نے پریس بریفنگ میں بتایا کہ متحدہ عرب امارات اپنی فضائی حدود ایران پر حملے کے لئے استعمال نہیں ہونے دے گا، ایران کا بیلسٹک میزائل پروگرام خطے کے لئے خطرہ ہے، امارات کو اپنے دفاع کا مکمل حق حاصل ہے۔
اماراتی وزیر مملکت کا کہنا تھا کہ ایران اور امریکا کے درمیان مسئلے کا فوجی حل ممکن نہیں،کشیدگی کے باعث خطےکو نقصان پہنچے گا ایرانی حملوں پر احتجاجاً تہران میں اماراتی سفارتخانہ بند کر کےسفیر کو واپس بلا لیا گیا ہے۔
دوسری جانب اماراتی عسکری حکام کا کہنا ہے کہ عرب امارات حالت جنگ میں ہے، اماراتی مسلح افواج مکمل جنگی تیاری کی حالت میں ہیں، اماراتی خودمختاری اور سلامتی پر کوئی سمجھوتا نہیں ہو گا۔
یہ بھی پڑھیں: ایرانی وزیر دفاع مجید بن الرضا امریکی و اسرائیلی حملے میں شہید
ادھر عرب میڈیا کے مطابق ابوظہبی اور دبئی میں ایک بار پھر دھماکوں کی آوازیں سنی گئی ہیں جبکہ قطری دارالحکومت دوحا میں بھی دھماکوں کی اطلاعات سامنے آئی ہیں۔
علاوہ ازیں اماراتی وزارت دفاع کے مطابق متحدہ عرب امارات کے فضائی دفاع نے 12 بیلسٹک میزائلوں اور 123 ڈرونز کو روکا، آج 11 بیلسٹک میزائلوں اور 123 ڈرونز کو روکا گیا، ایک میزائل ملک کی حدود میں گرا جس سے کوئی جانی نقصان نہیں ہوا۔
متحدہ عرب امارات کی وزارت دفاع کی جانب سے بتایا گیا کہ اب تک مجموعی طور پر 186 بیلسٹک میزائل متحدہ عرب امارات کی طرف داغے گئے جن میں سے 172 میزائل تباہ، 13 سمندر میں گرے اور ایک میزائل ملک کی سرزمین پر گرا۔