امریکی میڈیا رپورٹس کے مطابق امریکا نے سعودی عرب اور کویت میں اپنے سفارتخانے بند کر دئیے ہیں جبکہ مشرق وسطیٰ کے دیگر ممالک میں امریکی سفارتی عملے کو کم کرنے کے بھی احکامات جاری کردئیے گئے۔
رپورٹس کے مطابق امریکی وزارت خارجہ نے مشرق وسطیٰ کے 14ممالک میں مقیم اپنے شہریوں کو فوری ملک چھوڑنے کے احکامات بھی جاری کر دئیے جبکہ امریکا نے اردن، بحرین، قطر، عراق اور یواے ای میں اپنے سفارتی عملے کو بھی کم سے کم کر دیا ہے۔
دوسری جانب امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے ایران کے ساتھ بات چیت کے امکانات کو مسترد کرتے ہوئے کہا ہے کہ ایران سے بات چیت کے لیے بہت دیر ہو گئی، ایران نے امریکی و اسرائیلی حملے شروع ہونے کے بعد مذاکرات کے لیے کہا تھا۔
یہ بھی پڑھیں: سعودی عرب میں امریکی سفارتخانے پر حملہ، آگ لگ گئی
ادھر ایرانی صدر مسعود پزشکیان نے اپنے ایک بیان میں کہا ہے کہ جنگ کے باوجود ملکی معاملات ٹھیک چل رہے ہیں ملک بند نہیں ہوا، ایران کے تمام صوبے بھی فعال ہیں اور اپنا اپنا کام کر رہے ہیں، صوبوں کے گورنرز سے بلواسطہ رابطہ میں ہیں کیونکہ اس وقت غیر معمولی صورتحال ہے۔
علاوہ ازیں ایران نے جنگی ماحول کے پیش نظرخوراک کی برآمدات پر پابندی عائد کر دی۔
ایرانی میڈیا کے مطابق ایران نے خوراک اور زرعی مصنوعات کی تمام برآمدات پر مکمل پابندی عائد کرنے کا اعلان کیا ہے، تمام خوراک اور زرعی مصنوعات کی برآمد پر غیر معینہ مدت تک پابندی لگائی گئی ہے۔
ایرانی حکومت کی جانب سے اس حوالے سے جاری ایک بیان میں کہا گیا ہے کہ ایرانی عوام کے لیے ضروری اشیا کی فراہمی اولین ترجیح ہے۔