امریکی محکمہ خارجہ نے ہنگامی بنیادوں پر ایک ٹریول ایڈوائزری جاری کرتے ہوئے مشرقِ وسطیٰ کے 12 سے زائد ممالک میں موجود امریکی شہریوں کو فوری انخلا کا مشورہ دیا ہے۔ یہ فیصلہ ایسے وقت میں سامنے آیا ہے جب ایران پر امریکا اور اسرائیل کی مشترکہ
کارروائیوں کے بعد خطے میں شدید کشیدگی پیدا ہو چکی ہے۔ امریکی حکام کے مطابق ممکنہ جوابی حملوں اور غیر یقینی سیکیورٹی حالات کے باعث امریکی شہریوں کی جان کو خطرات لاحق ہو سکتے ہیں، اسی لیے احتیاطی تدابیر کے طور پر فوری انخلا کی ہدایت دی گئی ہے۔
محکمہ خارجہ کی جانب سے جاری بیان میں اسرائیل، بحرین، مصر، عراق، لبنان اور دیگر متعلقہ ممالک میں موجود امریکی شہریوں سے کہا گیا ہے کہ وہ کمرشل پروازوں کے ذریعے جلد از جلد روانگی اختیار کریں۔ بیان میں زور دیا گیا کہ شہری غیر ضروری نقل و حرکت سے گریز کریں اور مقامی حکام کی ہدایات پر عمل کریں۔
یہ بھی پڑھیں: امریکی صدر ٹرمپ کا جلد ایران پر بڑے حملوں کا عندیہ
مغربی کنارے (ویسٹ بینک) اور غزہ کے لیے بھی نئی سیکیورٹی ہدایات جاری کی گئی ہیں۔ ان علاقوں کو پہلے ہی ہائی رسک زون قرار دیا جا چکا تھا، تاہم حالیہ پیش رفت کے بعد خطرے کی سطح مزید بڑھا دی گئی ہے۔ امریکی سفارت خانوں اور قونصل خانوں کو بھی الرٹ کر دیا گیا ہے اور ہنگامی حالات سے نمٹنے کے لیے اضافی سیکیورٹی اقدامات کیے جا رہے ہیں۔
امریکی حکام کا کہنا ہے کہ صورتحال لمحہ بہ لمحہ تبدیل ہو رہی ہے اور کسی بھی وقت مزید سخت اقدامات کیے جا سکتے ہیں۔ شہریوں کو ہدایت کی گئی ہے کہ وہ امریکی محکمہ خارجہ کی ویب سائٹ اور سفارتی مشنز کی جانب سے جاری کردہ اپ ڈیٹس پر نظر رکھیں۔
تجزیہ کاروں کے مطابق یہ وارننگ اس بات کا اشارہ ہے کہ خطے میں کشیدگی مزید بڑھ سکتی ہے اور ممکنہ طور پر وسیع پیمانے پر تصادم کا خدشہ موجود ہے۔ امریکا کی جانب سے اپنے شہریوں کو نکالنے کا فیصلہ سفارتی اور عسکری سطح پر سنگین خدشات کی عکاسی کرتا ہے، جس کے اثرات پورے خطے پر مرتب ہو سکتے ہیں۔