واشنگٹن میں ایک تقریب سے خطاب کرتے ہوئے امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کا کہنا تھا کہ ابھی ہم نے ایران پر سخت حملے شروع ہی نہیں کیے، ایران پر جلد بڑے حملے کرنے جا رہے ہیں، اگر ضروت پڑی تو ایران میں اپنی فوجیں اتارنے سے بھی گریز نہیں کیا جائے گا۔
انہوں نے کہا کہ ہمارے اہداف واضح تھے،پہلے ایرانی میزائل پروگرام کو ختم کرنا تھا، ایران میں آپریشن اب بھی جاری ہے، امریکا ایران کےخلاف بڑے پیمانے پر جنگی کارروائیاں جاری رکھے ہوئے ہے۔
یہ بھی پڑھیں: امریکا کی اپنے تین ایف 15 لڑاکا طیارے گرنے کی تصدیق
ڈونلڈ ٹرمپ کا کہنا تھا کہ ایران جلد ایسے میزائل بنا سکتا تھا جو امریکا تک پہنچ سکیں، ایرانی بیلسٹک میزائل پروگرام بہت تیزی سے بڑھ رہا تھا، ایران کے دور مار میزائل ناقابل معافی خطرہ ہیں، ہم نے 10 ایرانی بحری جہاز تباہ کیے۔
امریکی صدر نے کہا کہ ایران پر حملوں میں ان کے 49 رہنماؤں کو مارا،ایران میں بہت جلد بڑی کارروائی کی ضرورت پڑ سکتی ہے،ایران کے ساتھ ڈیل کی لیکن اس نے ہماری وارننگز کو نظرانداز کیا،ایران کو کبھی جوہری ہتھیار حاصل نہیں کرنے دیں گے،ایران کے میزائل پروگرام کو ختم کرنا اولین ترجیح ہے۔