ایرانی فوج کی جانب سے جاری بیان میں کہا گیا کہ ملک کی قیادت پر حملہ ایک سنگین اقدام ہے اور اس کا بھرپور اور فیصلہ کن جواب دیا جائے گا، جارح کو ہر صورت سزا دی جائےگی، ملک کی خودمختاری اور سلامتی کے دفاع کے لیے ہر ممکن اقدام کریں گے اور دشمن کو اس اقدام کی قیمت چکانا پڑے گی۔
یاد رہے کہ ایرانی سرکاری میڈیا نے ایران کے سپریم لیڈر آیت اللہ خامنہ ای کے شہید ہونے کی تصدیق کردی۔ ایرانی سرکاری میڈیا کے مطابق آیت اللہ خامنہ ای ہفتہ کو ہونے والے امریکی و اسرائیلی حملوں میں شہید ہوئے، سپریم لیڈر کی شہادت ان کے دفتر میں ہوئی۔
یہ بھی پڑھیں: امریکی حملے میں سپریم لیڈر آیت اللہ شہید، ایران کی تصدیق
واضح رہے اس سے قبل سینئر اسرائیلی حکام نے بھی دعویٰ کیا تھا کہ انہیں ایرانی سپریم لیڈر کی میت مل گئی ہے۔ برطانوی میڈیا نے اسرائیلی ذرائع کے حوالے سے رپورٹ کیا تھا کہ آیت اللہ خامنہ ای ایک خفیہ کمپاؤنڈ پر کیے گئے اسرائیلی حملے میں مارے گئے۔ اسرائیلی حکام کا یہ بھی کہنا تھا کہ خامنہ ای کی میت کی تصویر امریکی صدر کو دکھائی گئی ہے۔
امریکی حکام نے دعویٰ کیا کہ انہیں یقین ہے کہ خامنہ ای سمیت پانچ سے دس اعلیٰ ایرانی رہنما بھی اسی حملے میں شہید ہوئے۔ امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ ایران میں فیصلے کرنے والے زیادہ تر افراد مارے جا چکے ہیں اور امریکا کا حملہ بہت طاقتور تھا۔ ان کا کہنا تھا کہ حملے کے بعد ایران کو دوبارہ سنبھلنے میں کئی سال لگ سکتے ہیں۔ انہوں نے یہ بھی کہا کہ ایرانی سپریم لیڈر کے انتقال کی خبریں درست معلوم ہوتی ہیں۔
یہ بھی پڑھیں: ایران کا جواباً اسرائیل، ریاض، دبئی اور قطر میں امریکی اڈوں پر حملہ
تاہم ان دعوؤں کے دوران ایرانی وزارت خارجہ کی جانب سے متضاد بیان سامنے آیا تھا جس میں کہا گیا تھا کہ آیت اللہ خامنہ ای اور ایرانی صدر خیریت سے ہیں۔ ایرانی سپریم لیڈر کے دفتر کے ترجمان نے عوام کو خبردار کرتے ہوئے کہا تھا کہ دشمن اعصابی جنگ کا سہارا لے رہا ہے اور عوام دشمن کے پروپیگنڈے سے ہوشیار رہیں۔
حالیہ سرکاری تصدیق کے بعد ایران میں سیکیورٹی ہائی الرٹ کر دی گئی ہے جبکہ سرکاری اداروں اور عسکری تنصیبات کے گرد حفاظتی اقدامات مزید سخت کر دیے گئے ہیں۔ عالمی برادری صورتحال پر گہری نظر رکھے ہوئے ہے اور کئی ممالک نے فوری تحمل اور سفارتی حل کی اپیل کی ہے۔
ماہرین کا کہنا ہے کہ جنگ طویل بھی ہو سکتی ہے یا سفارتی دباؤ کے نتیجے میں چند دنوں میں کسی معاہدے کی صورت اختیار کر سکتی ہے، تاہم فی الحال صورتحال انتہائی نازک اور تیزی سے تبدیل ہوتی ہوئی دکھائی دے رہی ہے۔