عرب میڈیا رپورٹس کے مطابق ایران نے تازہ حملے میں دبئی انٹرنیشنل ایئرپورٹ کو میزائل سے نشانہ بنایا، جس کے بعد ٹرمینل تھری میں دھواں بھر گیا اور مسافروں کو فوری طور پر محفوظ مقامات پر منتقل کیا گیا۔ دبئی حکام کے مطابق کم از کم چار افراد زخمی ہوئے ہیں جنہیں طبی امداد فراہم کی جا رہی ہے۔ یو اے ای کی سرکاری خبر ایجنسی نے تصدیق کی ہے کہ حملے میں ایک شخص ہلاک ہوا جبکہ فضائی دفاعی نظام نے متعدد میزائل فضا میں تباہ کر دیے۔
دوسری جانب ایران نے اسرائیل پر بھی حملے جاری رکھنے کا اعلان کیا ہے۔ اطلاعات کے مطابق تل ابیب میں واقع اسرائیلی وزارت دفاع کی عمارت کو نشانہ بنایا گیا، جس کے نتیجے میں ایک شخص ہلاک اور 21 زخمی ہوئے۔ متعدد عمارتوں میں آگ لگنے کی اطلاعات ہیں جبکہ امدادی ٹیمیں کارروائی میں مصروف ہیں۔ اسرائیل میں ایمرجنسی نافذ کر دی گئی ہے، اسکول بند کر دیے گئے ہیں اور شہریوں کو محفوظ مقامات پر رہنے کی ہدایت جاری کی گئی ہے۔
یہ بھی پڑھیں: اسرائیل کا سپریم لیڈر آیت اللہ علی خامنہ ای کے مارے جانے کا دعویٰ
اسرائیلی وزیر اعظم نے دعویٰ کیا ہے کہ حالیہ حملے میں ایران کے سپریم لیڈر آیت اللہ علی خامنہ ای سمیت متعدد اعلیٰ رہنما مارے گئے اور جس خفیہ کمپاؤنڈ میں وہ موجود تھے اسے مکمل طور پر تباہ کر دیا گیا۔ اسرائیلی حکام کا کہنا ہے کہ خامنہ ای کی میت کی تصویر امریکی حکام کو دکھائی گئی ہے۔ امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے بھی دعویٰ کیا کہ سپریم لیڈر اب زندہ نہیں رہے اور ایرانی عوام سے اپیل کی کہ وہ آگے بڑھ کر اپنا مستقبل خود طے کریں۔ تاہم اقوام متحدہ کے سیکریٹری جنرل انتونیو گوتریس نے کہا ہے کہ اس دعوے کی تصدیق نہیں ہو سکی۔
ایران نے ان دعوؤں کو سختی سے مسترد کرتے ہوئے کہا ہے کہ سپریم لیڈر محفوظ ہیں اور انہیں نامعلوم مقام پر منتقل کر دیا گیا ہے۔ ایران نے اپنی فضائی حدود بند کر دی ہیں جبکہ عراق نے بھی ایئر ٹریفک معطل کر دی ہے۔
دبئی ائرپورٹ کے مناظر۔ pic.twitter.com/VdkTMpNR1l
— Zubair Khan Niazi (@zubairniazi) February 28, 2026
ادھر امریکی صدر نے اعلان کیا ہے کہ امریکا نے ایران کے خلاف وسیع آپریشن ایپک فیوری شروع کر دیا ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ ایران کو جوہری ہتھیار حاصل کرنے کی اجازت نہیں دی جائے گی اور ایرانی میزائل پروگرام ختم کر دیا جائے گا۔ اسرائیلی دفاعی حکام کے مطابق یہ حملے مہینوں کی منصوبہ بندی کا نتیجہ ہیں اور مزید کارروائیاں متوقع ہیں۔
خلیجی ممالک میں بھی کشیدگی بڑھ گئی ہے۔ ایران نے بحرین، قطر، کویت اور متحدہ عرب امارات میں امریکی اڈوں کو نشانہ بنانے کا دعویٰ کیا ہے۔ سعودی عرب نے ان حملوں کی مذمت کرتے ہوئے کہا ہے کہ ایران خلیجی ممالک کی خودمختاری کی خلاف ورزی کر رہا ہے۔
صورتحال کی سنگینی کے پیش نظر اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل کا ہنگامی اجلاس جاری ہے، جہاں روس اور چین سمیت کئی ممالک نے امریکی اور اسرائیلی حملوں کی مذمت کی ہے۔ خطے میں جنگ کے پھیلنے کے خدشات کے باعث عالمی برادری شدید تشویش میں مبتلا ہے جبکہ آئندہ چند روز انتہائی فیصلہ کن قرار دیے جا رہے ہیں۔