سوشل میڈیا پر وائرل ہونے والے نوٹیفکیشن کے مطابق اسسٹنٹ کمشنر قلعہ سیف اللّٰہ کے نام سے جاری دستاویز میں پیٹرول کی قیمت 241 روپے فی لیٹر جبکہ ڈیزل کی قیمت 266 روپے فی لیٹر مقرر کی گئی ہے۔ دستاویز میں یہ بھی کہا گیا ہے کہ تمام پمپ مالکان کو ہدایت دی گئی ہے کہ وہ انہی نرخوں پر ایندھن فروخت کریں، بصورت دیگر ان کے خلاف قانونی کارروائی عمل میں لائی جائے گی۔ اس کے علاوہ انتظامیہ کی جانب سے اس امر کو یقینی بنانے کے لیے نگرانی کے اقدامات کا بھی ذکر کیا گیا ہے۔
یہ بھی پڑھیں: ایرانی کرنسی کی قدر میں غیر معمولی اضافہ
تاہم اس تمام صورتحال میں سب سے اہم پہلو یہ ہے کہ اس نوٹیفکیشن کی تاحال کسی بھی سرکاری سطح پر تصدیق یا تردید سامنے نہیں آئی ہے۔ ضلعی انتظامیہ یا متعلقہ حکام کی جانب سے کوئی باضابطہ بیان جاری نہیں کیا گیا، جس کے باعث عوام میں شکوک و شبہات پیدا ہو رہے ہیں۔ کچھ حلقوں کا خیال ہے کہ یہ نوٹیفکیشن پرانا ہو سکتا ہے یا پھر کسی غیر مصدقہ ذریعے سے پھیلایا گیا ہے، جبکہ بعض افراد اسے حالیہ حکومتی پالیسی کا حصہ قرار دے رہے ہیں۔
.jpg)
ماہرین کا کہنا ہے کہ اس قسم کی غیر مصدقہ معلومات کا سوشل میڈیا پر پھیلنا عوام میں بے چینی پیدا کرتا ہے اور مارکیٹ میں مصنوعی اتار چڑھاؤ کا سبب بھی بن سکتا ہے۔ خاص طور پر ایندھن کی قیمتیں ایک حساس معاملہ ہیں، جو نہ صرف ٹرانسپورٹ بلکہ روزمرہ اشیاء کی قیمتوں پر بھی براہ راست اثر انداز ہوتی ہیں۔ اگر قیمتوں میں کسی قسم کی تبدیلی کی جاتی ہے تو اس کا باقاعدہ اعلان حکومتی سطح پر کیا جانا ضروری ہوتا ہے۔
عوامی حلقوں نے حکومت سے مطالبہ کیا ہے کہ اس معاملے پر فوری وضاحت جاری کی جائے تاکہ افواہوں کا خاتمہ ہو اور درست معلومات عوام تک پہنچ سکیں۔ جب تک سرکاری تصدیق یا تردید سامنے نہیں آتی، اس نوٹیفکیشن کو غیر مصدقہ ہی تصور کیا جا رہا ہے اور شہریوں کو مشورہ دیا جا رہا ہے کہ وہ سوشل میڈیا پر پھیلنے والی خبروں پر اندھا یقین کرنے سے گریز کریں۔