جنوبی کوریا: سابق صدر کو بغاوت کے جرم میں عمر قید سزا
South Korea former president sentenced
فائل فوٹو
سیئول: (ویب ڈیسک) جنوبی کوریا کی عدالت نے ملک کے سابق صدر یون سوک یول کو بغاوت کے جرم میں عمر قید کی سزا سنا دی، یہ فیصلہ دسمبر 2024 میں نافذ کیے گئے مختصر مارشل لاء کے معاملے میں سنایا گیا۔

سیئول سینٹرل ڈسٹرکٹ کورٹ کے جج نے فیصلہ سناتے ہوئے کہا کہ مارشل لاء کے اعلان سے ملک اور معاشرے کو بھاری قیمت چکانی پڑی۔

عدالت نے مزید کہا کہ ملزم نے اپنے اقدام پر ندامت کا کوئی واضح اظہار نہیں کیا، جبکہ بغاوت کی قیادت کا جرم ثابت ہو چکا ہے، لہٰذا انہیں عمر قید کی سزا دی جاتی ہے۔

استغاثہ نے معزول صدر کیلئے سزائے موت کا بھی مطالبہ کیا تھا، تاہم عدالت نے اسے منظور نہیں کیا۔ عدالت کے مطابق یون سوک یول نے 3 دسمبر 2024 کو بغاوت کی منصوبہ بندی کی تھی، جس کے بعد ان کیخلاف قانونی کارروائی شروع ہوئی۔

65 سالہ سابق صدر کو مارشل لاء کے نفاذ پر مواخذے کے بعد عہدے سے ہٹایا گیا تھا، عدالتی سماعت کے دوران یون سوک یول نے خود کو بے گناہ قرار دیتے ہوئے مؤقف اختیار کیا کہ انہیں بطور صدر مارشل لاء نافذ کرنے کا آئینی اختیار حاصل تھا، ان کا کہنا تھا کہ ان کا اقدام اپوزیشن جماعتوں کی جانب سے حکومتی امور میں رکاوٹ ڈالنے کو روکنے کے لیے تھا۔

یہ بھی پڑھیں: رہائشی عمارت کی چھت گرگئی، 11 افراد جاں بحق

یاد رہے کہ اس سے قبل جنوبی کوریا کی عدالت نے یون سوک یول کو مارشل لاء کیس میں 5 سال قید کی سزا بھی سنا چکی ہے، اس نئی سزا کے بعد سابق صدر کی سیاسی اور عوامی حیثیت پر سنگین اثرات مرتب ہوں گے، جبکہ ملک میں آئندہ سیاسی و قانونی بحث بھی شدت اختیار کرنے کا امکان ہے۔