ان کے انتقال کی خبر سے اردو صحافت، ادب اور شعری حلقوں میں گہرے رنج و غم کی لہر دوڑ گئی۔ ادبی حلقوں کا کہنا ہے کہ دنیا ایک ایسی شخصیت سے محروم ہو گئی ہے جس نے اپنی پوری زندگی اردو زبان کی خدمت کیلئے وقف کر رکھی تھی۔
سید اسد رضا نقوی کا شمار بھارت میں اردو صحافت کی نمایاں اور معتبر شخصیات میں ہوتا تھا۔ انہوں نے صحافت کو محض خبر رسانی تک محدود نہیں رکھا بلکہ اپنی تحریروں کے ذریعے معاشرتی مسائل، سماجی ناانصافیوں اور انسانی اقدار کو اجاگر کیا۔ ان کے کالم اور مضامین قاری کو نہ صرف معلومات فراہم کرتے تھے بلکہ سوچنے پر بھی مجبور کر دیتے تھے۔
یہ بھی پڑھیں:سجادہ نشین درگاہ حضرت بری امام سرکار مخدوم سید نزاکت حسین وفات پاگئے
صحافت کے ساتھ ساتھ سید اسد رضا نقوی شاعری کے میدان میں بھی ایک منفرد مقام رکھتے تھے۔ ان کی شاعری میں طنز و مزاح، تلخ سماجی حقائق اور گہرا فکری شعور نمایاں تھا۔ انہوں نے غزل، نظم اور دیگر اصنافِ سخن میں طبع آزمائی کی اور اپنی منفرد اسلوب کی بدولت پہچان بنائی۔ ان کا کلام آج بھی اردو ادب کے قارئین میں مقبول ہے۔
ان کے انتقال پر متعدد صحافیوں، شاعروں، ادیبوں اور سماجی شخصیات نے گہرے دکھ کا اظہار کیا ہے۔ اہلِ قلم کا کہنا ہے کہ سید اسد رضا نقوی کا جانا اردو زبان و ادب کیلئے ایک ناقابلِ تلافی نقصان ہے۔ ان کی صحافتی اور ادبی خدمات کو ہمیشہ یاد رکھا جائے گا اور آنے والی نسلیں ان کے کام سے رہنمائی حاصل کرتی رہیں گی۔