خاندانی ذرائع کے مطابق مخدوم سید نزاکت حسین کاظمی طویل عرصے سے جگر اور گردوں کے عارضے میں مبتلا تھے اور مختلف اسپتالوں میں زیر علاج رہے۔ طبی کوششوں کے باوجود وہ جانبر نہ ہو سکے اور خالقِ حقیقی سے جا ملے۔ ان کے انتقال کی خبر پھیلتے ہی درگاہ بری امام سرکارؒ پر عقیدت مندوں کی بڑی تعداد جمع ہونا شروع ہو گئی۔
مرحوم ایک معروف روحانی خاندان سے تعلق رکھتے تھے، وہ مخدوم سید ذاکر حسین کاظمی کے چھوٹے بھائی جبکہ مخدوم سید صغیر حسین شاہ کاظمی کے صاحبزادے تھے۔ اسی طرح وہ مخدوم سید طاہر حسین کاظمی، سید انتظار مہدی اور سید عمران مہدی کے چچازاد بھی تھے۔ روحانی خدمات اور درگاہی نظام کی ذمہ داریاں انہوں نے نہایت وقار اور دیانت داری سے نبھائیں۔
یہ بھی پڑھیں:معروف سرائیکی شاعر شکیل احمد رازش لیاقت پوری انتقال کر گئے
مخدوم سید نزاکت حسین کاظمی کو عقیدت مندوں میں انکساری، خدمتِ خلق اور صوفیانہ طرزِ زندگی کے باعث خاص مقام حاصل تھا۔ ان کے حلقۂ ارادت میں سیاست، سماج اور مختلف شعبۂ ہائے زندگی سے تعلق رکھنے والی شخصیات شامل تھیں، جو ان کی وفات کو ایک بڑا روحانی خلا قرار دے رہی ہیں۔
مرحوم نے سوگواران میں تین بیٹے اور دو بیٹیاں چھوڑے ہیں۔ نمازِ جنازہ درگاہ حضرت ولایت سرکارؒ بری امام میں ادا کی جائے گی، تاہم اس کے وقت کا اعلان بعد میں کیا جائے گا۔ مرحوم کی مغفرت اور درجات کی بلندی کے لیے خصوصی دعائیں کی جا رہی ہیں۔