معروف سرائیکی شاعر شکیل احمد رازش لیاقت پوری انتقال کر گئے
Shakil Ahmed Razesh
فائل فوٹو
لاہور: (ویب ڈیسک) معروف صحافی، مصنف، کالم نگار اور سرائیکی زبان کے ممتاز شاعر شکیل احمد رازش لیاقت پوری طویل علالت کے بعد انتقال کر گئے۔

خاندانی ذرائع کے مطابق وہ گردوں کے عارضے میں مبتلا تھے اور کچھ عرصے سے زیرِ علاج تھے۔ ان کے انتقال کی خبر سامنے آتے ہی صحافتی، ادبی اور سیاسی حلقوں میں گہرے رنج و غم کی لہر دوڑ گئی۔

شکیل احمد رازش لیاقت پوری کا تعلق جنوبی پنجاب کے خطے وسیب سے تھا، وہ نہ صرف اردو بلکہ سرائیکی ادب میں بھی ایک معتبر نام سمجھے جاتے تھے۔ انہوں نے اپنی تحریروں کے ذریعے علاقائی مسائل، سماجی ناانصافیوں اور ثقافتی شناخت کو بھرپور انداز میں اجاگر کیا۔ وہ سات کتابوں کے مصنف تھے جن میں شاعری، کالم اور تحقیقی مضامین شامل ہیں۔

سابق وفاقی وزیر مخدوم احمد عالم انور نے ان کے انتقال پر گہرے دکھ کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ رازش لیاقت پوری کی میت رحیم یار خان سے ان کے آبائی گاؤں منتقل کی جا رہی ہے، ان کی وفات پورے وسیب کیلئے ایک ناقابلِ تلافی نقصان ہے کیونکہ انہوں نے اپنی قلمی جدوجہد سے علاقے کی آواز کو قومی سطح پر پہنچایا۔

یہ بھی پڑھیں:جے یو آئی (س) کے صوبائی امیر کی گاڑی پر فائرنگ، پوتے زخمی

مسلم لیگ (ن) کے ایم پی اے چوہدری محمود احمد نے بھی ان کے انتقال پر افسوس کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ شکیل احمد رازش لیاقت پوری کی صحافت اور ادب کیلئے خدمات ہمیشہ یاد رکھی جائیں گی۔ ان کے مطابق مرحوم کی نمازِ جنازہ کے حوالے سے اعلان بعد میں کیا جائے گا۔

شکیل احمد رازش لیاقت پوری کے انتقال سے ایک ایسا خلا پیدا ہو گیا ہے جسے پر کرنا مشکل ہوگا۔ ان کی ادبی و صحافتی خدمات انہیں ہمیشہ اہلِ قلم کے دلوں میں زندہ رکھیں گی۔