واقعے کے بعد علاقے میں خوف و ہراس پھیل گیا جبکہ سیکیورٹی ادارے فوری طور پر متحرک ہو گئے۔
پولیس کے مطابق حملے کے وقت مولانا عبد الواحد خطیب اپنی گاڑی میں سفر کر رہے تھے۔ فائرنگ کے نتیجے میں ان کے دو پوتے، جن کی عمریں 6 اور 8 سال بتائی جا رہی ہیں، زخمی ہو گئے۔ خوش قسمتی سے مولانا عبد الواحد خطیب اور ان کے بیٹے اس واقعے میں محفوظ رہے اور کسی بڑے جانی نقصان سے بچ گئے۔
زخمی بچوں کو فوری طور پر قریبی ہسپتال منتقل کیا گیا، جہاں ڈاکٹروں کے مطابق ان کی حالت خطرے سے باہر ہے اور علاج جاری ہے۔ ہسپتال ذرائع کا کہنا ہے کہ بچوں کو طبی امداد فراہم کی جا رہی ہے اور ان کی صحت میں بہتری آ رہی ہے۔
یہ بھی پڑھیں:عمران خان کی صحت پر پمز ہسپتال کی انتظامیہ کا بیان آگیا
واقعے کی اطلاع ملتے ہی پولیس کی بھاری نفری موقع پر پہنچ گئی اور علاقے کو گھیرے میں لے لیا گیا۔ پولیس نے جائے وقوعہ سے شواہد اکٹھے کر کے تحقیقات کا آغاز کر دیا، جبکہ نامعلوم حملہ آوروں کی تلاش کیلئے تفتیشی ٹیمیں تشکیل دے دی گئی ہیں۔
سیاسی و سماجی حلقوں کی جانب سے اس واقعے کی شدید مذمت کی جا رہی ہے،پارٹی رہنماؤں نے کمسن بچوں کو نشانہ بنانے کے عمل کو بزدلانہ قرار دیتے ہوئے مطالبہ کیا ہے کہ حملہ آوروں کو جلد گرفتار کر کے قانون کے کٹہرے میں لایا جائے۔