یومِ کشمیر ہر سال پاکستان میں کشمیری عوام سے اظہارِ یکجہتی کے لیے منایا جاتا ہے۔ اس دن ملک بھر میں خصوصی تقاریب، سیمینارز، ریلیاں اور دعائیہ اجتماعات منعقد کیے جاتے ہیں تاکہ کشمیری عوام کے حقِ خودارادیت کی حمایت کا اعادہ کیا جا سکے
اس کا اطلاق تمام وفاقی و صوبائی سرکاری اداروں، تعلیمی اداروں اور بیشتر نجی دفاتر پر بھی ہوگا۔ یہ فیصلہ کابینہ ڈویژن کی جانب سے جاری کردہ باقاعدہ نوٹیفکیشن کے تحت کیا گیا ہے۔
یہ بھی پڑھیں: سانحہ بھاٹی چوک: ہائی پاور کمیٹی کی انکوائری رپورٹ مکمل
یہ تعطیل قومی سطح پر تسلیم شدہ دیگر اہم دنوں کی طرح ہے جن میں یومِ پاکستان (23 مارچ) اور یومِ آزادی (14 اگست) شامل ہیں۔ حکومت کا کہنا ہے کہ اس تعطیل کا مقصد نہ صرف کشمیری عوام کے ساتھ یکجہتی کا اظہار ہے بلکہ عوام کو اس مسئلے کی تاریخی، سیاسی اور انسانی اہمیت سے آگاہ کرنا بھی ہے۔
ہر سال کی طرح 2026 میں بھی توقع کی جا رہی ہے کہ یومِ کشمیر کے موقع پر سرکاری و نجی سطح پر سرگرمیوں کا اہتمام کیا جائے گا جن میں انسانی حقوق کی پامالیوں کے خلاف آواز بلند کی جائے گی اور عالمی برادری کی توجہ مسئلہ کشمیر کی جانب مبذول کرانے کی کوشش کی جائے گی۔