غیر ملکی میڈیا رپورٹس کے مطابق حملہ اچانک کیا گیا، تاہم خوش قسمتی سے الہان عمر اس واقعے میں زخمی نہیں ہوئیں۔ سیکیورٹی اہلکاروں نے فوری کارروائی کرتے ہوئے ایک سفید فام شخص کو حراست میں لے لیا، جس سے ممکنہ بڑے حادثے کو ٹال دیا گیا، واقعے کے بعد تقریب کا ماحول کشیدہ ہو گیا اور سیکیورٹی مزید سخت کر دی گئی۔
واضح رہے کہ الہان عمر ماضی میں سابق امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ اور ان کی پالیسیوں پر کھل کر تنقید کرتی رہی ہیں، حملے سے کچھ دیر قبل وہ ہوم لینڈ سیکیورٹی کی وزیر کرسٹی نوئم سے استعفیٰ یا مواخذے کا مطالبہ بھی کر رہی تھیں۔ ان کا مؤقف تھا کہ امیگریشن اور سیکیورٹی سے متعلق پالیسیوں میں سنگین غلطیاں کی جا رہی ہیں۔
الہان عمر کے والدین کا تعلق صومالیہ سے ہے، جبکہ کرسٹی نوئم کو حالیہ دنوں میں منی سوٹا میں ایک آئیس اہلکار کے ہاتھوں ہلاکت کے معاملے پر شدید تنقید کا سامنا ہے۔
یہ بھی پڑھیں:جاپانی وزیراعظم نے پارلیمنٹ تحلیل کردی،8 فروری کو انتخابات ہونگے
امریکی میڈیا کے مطابق کرسٹی نوئم اور صدر ٹرمپ کے مشیر اسٹیفن ملر پر گمراہ کن معلومات پھیلانے کے الزامات بھی عائد کیے جا رہے ہیں۔
ان مبینہ دعوؤں میں کہا گیا کہ اہلکاروں نے ایک مظاہرہ کرنے والے شخص الیکس پریٹی کو مسلح قرار دے کر ہلاک کیا، حالانکہ بعد میں اس دعوے پر سوالات اٹھائے گئے۔اس واقعے نے امریکا میں سیاسی کشیدگی اور سیکیورٹی خدشات کو ایک بار پھر نمایاں کر دیا ہے۔