صارفین کے مطابق حالیہ بجلی کے بلوں میں مکمل بجلی استعمال (کنزمپشن) کے چارجز شامل کیے گئے ہیں جبکہ سولر سسٹم کے ذریعے گرڈ میں فراہم کی گئی بجلی (ایکسپورٹڈ یونٹس) نیٹ میٹرنگ ریکارڈ سے مکمل طور پر غائب ہیں۔
سولر صارفین کا کہنا ہے کہ جس ریلیف کی انہیں اپنے بلوں میں توقع تھی، وہ440 وولٹ کے جھٹکے میں بدل گئی کیونکہ سولر سے پیدا ہونے والی بجلی کے یونٹس بلوں میں شامل ہی نہیں کیے گئے۔
متعدد صارفین نے شکایت کی کہ ان سے تمام درآمد شدہ یونٹس کے چارجز وصول کیے گئے جیسے کہ ان کے گھروں میں سولر سسٹم نصب ہی نہ ہو، اس صورتحال نے عوامی سطح پر شدید ردِعمل کو جنم دیا ہے اور شہریوں نے بجلی تقسیم کار کمپنیوں سے فوری طور پر بلوں کی درستگی اور وضاحت کا مطالبہ کیا ہے۔
یہ بھی پڑھیں: سونے کی قیمتوں نے تمام ریکارڈ توڑ دیے،فی تولہ کتنے کا ہوگیا؟
تاحال حکام کی جانب سے کوئی باضابطہ وضاحت سامنے نہیں آئی، تاہم ذرائع کا کہنا ہے کہ یہ مسئلہ کسی تکنیکی یا سافٹ ویئر خرابی کے باعث پیدا ہوا ہے۔
سولر صارفین نے خبردار کیا ہے کہ اس قسم کی غلطیاں نیٹ میٹرنگ سسٹم پر اعتماد کو نقصان پہنچاتی ہیں اور پہلے ہی مہنگی بجلی سے پریشان گھریلو صارفین کے لیے سولر اپنانا مزید مشکل بنا دیتی ہیں۔