عالمی ادارے Bulletin of the Atomic Scientists نے سال 2026 کیلئے ڈومز ڈے کلاک کو آدھی رات سے صرف 85 سیکنڈ پہلے پر سیٹ کر دیا ہے، جو تاریخ کی خطرناک ترین سطحوں میں سے ایک قرار دی جا رہی ہے۔
ادارے کے سائنس اینڈ سیکیورٹی بورڈ (SASB) کے مطابق دنیا کو درپیش سب سے بڑے خطرات میں جوہری جنگ کا امکان، اسلحہ کی نئی دوڑ اور خلا میں عسکری منصوبوں کی تیاری شامل ہیں۔
ماہرین کا کہنا ہے کہ عالمی طاقتیں ایک بار پھر ایسے خطرناک مقابلے میں الجھ چکی ہیں جس کا انجام پوری انسانیت کیلئے تباہ کن ہو سکتا ہے۔
رپورٹس میں بتایا گیا کہ جدید اور زیادہ تباہ کن جوہری ہتھیاروں کی تیاری تیزی سے جاری ہے، عالمی سطح پر اعتماد سازی کے معاہدے بھی کمزور پڑتے جا رہے ہیں۔ SASB کے ایک رکن نے سابق امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے مجوزہ’گولڈن ڈوم منصوبے پر خصوصی تشویش کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ خلا میں دفاعی اور عسکری نظام نصب کرنے کا یہ تصور دنیا کو خلائی جنگ کی جانب دھکیل سکتا ہے۔
یہ بھی پڑھیں:موبائل اور انٹرنیٹ صارفین کیلئے سائبر سکیورٹی الرٹ جاری
ماہرین کے مطابق اس منصوبے کے نتیجے میں روس اور چین کی جانب سے سخت ردعمل آ سکتا ہے، جس سے عالمی سلامتی کو ناقابلِ تلافی نقصان پہنچنے کا خدشہ ہے۔ مزید یہ کہ اگر روس اور امریکا کے درمیان جوہری اسلحہ محدود کرنے والے معاہدے مکمل طور پر ختم ہو گئے تو دونوں ممالک کھلے عام جوہری ہتھیار جمع کرنا شروع کر سکتے ہیں۔
جوہری ماہرین نے عالمی رہنما نے فوری سنجیدہ اور ذمہ دارانہ فیصلے کریں، اگر بروقت اقدامات نہ کیے گئے تو ڈومز ڈے کلاک کی سوئیاں آدھی رات پر پہنچنے سے کوئی نہیں روک سکے گا اور پھر قیامت محض ایک استعارہ نہیں بلکہ ایک حقیقت بن سکتی ہے۔