کینیڈا کے وزیراعظم نے فورم سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ گرین لینڈ اور ڈنمارک کے ساتھ کھڑے ہیں، کسی بھی جارحیت کو برداشت نہیں کیا جائے گا۔
فرانسیسی صدر ایمانوئیل میکرون نے بھی امریکہ پر کڑی تنقید کرتے ہوئے امریکی ٹیرف کو بلیک میلنگ قرار دیا اور کہا کہ امریکہ یورپ کو کمزور کر کے اپنے زیر اثر بنانے کی کوشش کر رہا ہے، نوآبادیاتی طرز عمل ناقابل قبول ہے، غنڈہ گردی کی بجائے احترام اور قانون کی بالادستی کو ترجیح دی جانی چاہیے۔
ڈنمارک کی وزیراعظم نے فورم میں کہا کہ خودمختاری، شناخت، علاقائی سالمیت اور جمہوریت پر کوئی سمجھوتہ نہیں کیا جائے گا، یورپی ممالک اپنے اصولوں اور قوانین کے دفاع میں کسی بھی قربانی سے گریز نہیں کریں گے۔
یہ بھی پڑھیں:امریکی صدر ٹرمپ کے طیارے میں فنی خرابی، ہنگامی لینڈنگ
دوسری جانب امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے دفاعی موقف اختیار کرتے ہوئے کہا کہ نیٹو کیلئے جتنا کام میں نے کیا، کسی نے نہیں کیا۔ اگر میں نہ آتا تو آج نیٹو وجود میں نہ ہوتا اور وہ تاریخ کے کوڑے دان میں ہوتا۔ ٹرمپ نے اس بات کا افسوس ظاہر کیا لیکن کہا کہ یہ حقیقت ہے۔
سینئر عالمی تجزیہ کاروں کے مطابق نیٹو ممالک میں موجودہ کھچاؤ اس بات کی عکاسی کرتا ہے کہ عالمی سیاست میں طاقت اور دفاع کے مسائل مزید پیچیدہ ہوتے جا رہے ہیں، جس کیوجہ سے امریکہ اور یورپی ممالک کے درمیان تعلقات میں کشیدگی بڑھتی جا رہی ہے۔