وائٹ ہاؤس کے ترجمان کے مطابق جب ٹرمپ کا طیارہ پرواز بھرا، تو اس میں ایک معمولی الیکٹرک خرابی کی نشاندہی ہوئی، جس کے بعد احتیاطی تدبیر کے طور پر طیارہ واپس جوائنٹ بیس اینڈریوز پر اتار لیا گیا۔
ترجمان نے کہا کہ خرابی کی اطلاع ملتے ہی طیارہ واپس واشنگٹن موڑنے کا فیصلہ کیا گیا۔ یہ اقدام کسی ہنگامی صورتحال سے بچنے کے لیے کیا گیا اور اس میں کسی قسم کی ایمرجنسی کی اطلاع نہیں تھی۔ اس پرواز کے دوران، طیارے کے عملے نے فوری طور پر اس خرابی کو ٹھیک کرنے کی کوشش کی، تاہم اس کے بعد فیصلہ کیا گیا کہ صدر ٹرمپ ایک دوسرے طیارے میں سوار ہو کر سوئٹزرلینڈ روانہ ہوں گے۔
یہ بھی پڑھیں: سپریم لیڈر پر حملہ مسلم دنیا کے خلاف اعلان جنگ تصور ہو گا: ایران
صدر ٹرمپ کا سفر ورلڈ اکنامک فورم میں شرکت کے لیے تھا، جس کا انعقاد سوئٹزرلینڈ کے شہر ڈیووس میں ہو رہا تھا۔ وائٹ ہاؤس کے ترجمان نے بتایا کہ صدر ٹرمپ دوسرے طیارے میں سوار ہوں گے اور اپنے طے شدہ شیڈول کے مطابق ڈیووس روانہ ہوں گے۔
ڈیووس روانگی سے قبل صدر ٹرمپ نے صحافیوں سے گفتگو کی اور کہا کہ یہ سفر ان کے لیے دلچسپ ہوگا۔ انہوں نے کہا کہ انہیں نہیں معلوم کہ اس سفر کے دوران کیا ہوگا، مگر وہ اس موقع پر امریکہ کی بھرپور نمائندگی کریں گے۔
اس سے پہلے، منگل کو وائٹ ہاؤس میں ایک پریس بریفنگ کے دوران، صدر ٹرمپ نے اپنی انتظامیہ کی کامیابیوں کی فہرست پیش کی اور اقوامِ متحدہ پر تنقید کی۔ انہوں نے اپنے موقف کو دہرایا کہ امریکہ کو گرین لینڈ پر کنٹرول حاصل کرنے کی ضرورت ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ گرین لینڈ میں امریکہ کے لیے مفادات کی اہمیت ہے اور امریکہ کو وہاں اپنے اثرورسوخ کو بڑھانا چاہیے۔
وائٹ ہاؤس نے اس بات کا بھی اعلان کیا تھا کہ صدر ٹرمپ کی ڈیووس میں ہونے والی تقریر کا محور رہائش کے اخراجات میں کمی اور عالمی اقتصادی پالیسی کے حوالے سے ان کا ایجنڈا ہوگا۔