ٹرمپ کا ریپبلکن اجلاس میں فرانسیسی صدر میکرون کا کھلے عام مذاق
Donald Trump remarks about french President
فائل فوٹو
واشنگٹن:(ویب ڈیسک) امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے ریپبلکن پارٹی کے ایک اجلاس سے خطاب کرتے ہوئے فرانسیسی صدر ایمانوئل میکرون کا کھلے عام مذاق اڑا دیا۔

ٹرمپ نے اپنی مخصوص طنزیہ اور جارحانہ انداز میں دعویٰ کیا کہ ان کی دھمکیوں کے بعد میکرون نے ادویات کی قیمتوں میں 200 فیصد اضافے پر رضامندی ظاہر کر دی۔

اپنی تقریر کے دوران ڈونلڈ ٹرمپ نے حاضرین کو مخاطب کرتے ہوئے کہا کہ انہوں نے فرانسیسی صدر کو واضح پیغام دیا تھا کہ اگر پیر تک امریکی شرائط تسلیم نہ کی گئیں تو فرانس سے آنے والی تمام مصنوعات پر 25 فیصد ٹیرف عائد کر دیا جائے گا۔

امریکی صدر نے طنزیہ انداز میں بتایا کہ میکرون نے ان سے کہا، ڈونلڈ، آپ جو چاہیں گے وہی ہوگا، بس عوام کو مت بتانا۔ ٹرمپ کے اس بیان پر اجلاس میں قہقہے گونج اٹھے، تاہم ناقدین نے اسے عالمی سفارتی آداب کے منافی قرار دیا ہے۔

ڈونلڈ ٹرمپ نے مزید دعویٰ کیا کہ صرف فرانس ہی نہیں بلکہ دیگر ممالک نے بھی ابتدا میں امریکی مطالبات ماننے سے انکار کیا تھا، لیکن ان کے بقول تین منٹ کے اندر اندر سب ممالک ادویات کی قیمتیں بڑھانے پر آمادہ ہو گئے۔ ٹرمپ نے اسے اپنی مضبوط مذاکراتی حکمت عملی کا نتیجہ قرار دیا۔

یہ بھی پڑھیں:روسی تیل پر تنازع، ڈونلڈ ٹرمپ کی بھارت کو دھمکی

دوسری جانب سیاسی تجزیہ کاروں کا کہنا ہے کہ ٹرمپ کے ایسے بیانات نہ صرف اتحادی ممالک کے ساتھ تعلقات میں تناؤ پیدا کر سکتے ہیں بلکہ عالمی تجارت اور سفارت کاری پر بھی منفی اثرات مرتب ہو سکتے ہیں۔

ٹرمپ کے حامیوں کا کہنا ہے کہ وہ امریکی مفادات کے تحفظ کیلئے سخت زبان اور دباؤ کی پالیسی اپناتے ہیں۔

واضح رہے کہ  فرانسیسی حکومت یا صدر میکرون کی جانب سے ان دعوؤں پر کوئی باضابطہ ردعمل سامنے نہیں آیا، تاہم یہ بیان بین الاقوامی سطح پر توجہ کا مرکز بن گیا ہے۔