وائٹ ہاؤس کے جاری کردہ بیان کے مطابق قطب شمالی کے اس خطے پر گرفت مخالفین کو روکنے اور عالمی سیاسی و اقتصادی فوائد کیلئے اہمیت رکھتی ہے۔
بیان میں کہا گیا کہ صدر ڈونلڈ ٹرمپ اور ان کی ٹیم گرین لینڈ کے حصول کیلئے مختلف آپشنز کا جائزہ لے رہی ہے، ان امکانات میں سفارتی، اقتصادی اور سیکیورٹی کے اقدامات شامل ہو سکتے ہیں، جبکہ امریکی فوج کا استعمال بطور آخری حل ہمیشہ صدر کے اختیار میں رہتا ہے۔
تجزیہ کاروں کا کہنا ہے کہ گرین لینڈ میں موجود معدنی وسائل، تیل و گیس کے ذخائر اور اسٹریٹجک جغرافیائی محل وقوع امریکا کیلئے خطے میں اثر و رسوخ بڑھانے کا موقع فراہم کرتا ہے۔
وائٹ ہاؤس کے مطابق گرین لینڈ پر کنٹرول حاصل کرنے سے امریکا قطب شمالی میں بڑھتی ہوئی عالمی مسابقت، خاص طور پر روس اور چین کے اثر و رسوخ، کو محدود کر سکتا ہے۔
یہ بھی پڑھیں:روسی تیل پر تنازع: ڈونلڈ ٹرمپ کی بھارت کو دھمکی
ذہن نشین رہے کہ گرین لینڈ ایک خودمختار علاقہ ہے جو رسمی طور پر ڈنمارک کے زیر انتظام ہے، تاہم یہاں کے سیاسی معاملات میں بین الاقوامی دلچسپی بڑھ رہی ہے۔ امریکی انتظامیہ کے اقدامات عالمی سطح پر بحث کا موضوع بن سکتے ہیں، کیونکہ کسی دوسرے ملک کے خطے پر کنٹرول کے امکانات عالمی قوانین اور سفارتی تعلقات کے لحاظ سے حساس ہیں۔
ماہرین کا کہنا ہے کہ اگرچہ موجودہ وقت میں کوئی حتمی فیصلہ نہیں ہوا، مگر گرین لینڈ کی جغرافیائی اہمیت اور قدرتی وسائل کی وجہ سے امریکا کی دلچسپی میں مسلسل اضافہ ہو رہا ہے، جو عالمی سیاست میں نئی بحث کو جنم دے سکتی ہے۔