غیر ملکی میڈیا رپورٹس کے مطابق زلزلے کے جھٹکے اچانک محسوس کیے گئے، جس کے بعد لوگ گھروں اور عمارتوں سے باہر نکل آئے۔ زلزلے کا مرکز جاپان کے صوبہ شیمانے کے مشرقی علاقے میں بتایا گیا ہے جبکہ اس کی گہرائی زمین کے اندر درمیانی سطح پر ریکارڈ کی گئی۔
جاپانی حکام کے مطابق زلزلے کے فوراً بعد کئی شدید آفٹر شاکس بھی محسوس کیے گئے، جس سے شہریوں میں تشویش مزید بڑھ گئی۔ تاہم ابتدائی اطلاعات کے مطابق کسی بڑے جانی نقصان یا وسیع پیمانے پر تباہی کی اطلاع سامنے نہیں آئی۔ جاپان کے سرکاری اداروں نے صورتحال پر کڑی نظر رکھی ہوئی ہے اور ہنگامی ٹیمیں ممکنہ نقصانات کا جائزہ لینے کے لیے متحرک کر دی گئی ہیں۔
یہ بھی پڑھیں: نائب امریکی صدر جے ڈی وینس کے گھر پر حملہ، توڑ پھوڑ
جاپان کے محکمہ موسمیات نے بتایا کہ زلزلے کی شدت جاپان کے مخصوص زلزلہ پیمانے پر بالائی درجے کی پانچ ریکارڈ کی گئی، جو کہ ایک طاقتور زلزلہ تصور کیا جاتا ہے۔ اس شدت کے زلزلے میں عمارتوں کو نقصان پہنچنے کا خدشہ ہوتا ہے، تاہم جدید تعمیراتی معیار کی وجہ سے زیادہ تر عمارتیں محفوظ رہیں۔
حکام نے واضح کیا ہے کہ زلزلے کے بعد سونامی کا کوئی خطرہ نہیں ہے، جس سے ساحلی علاقوں میں رہنے والے افراد نے سکھ کا سانس لیا۔ جاپان میں زلزلوں کے بعد عموماً سونامی کے خدشات پیدا ہو جاتے ہیں، تاہم اس بار سمندری سطح میں کسی غیر معمولی تبدیلی کی اطلاع نہیں ملی۔
واضح رہے کہ جاپان دنیا کے ان ممالک میں شامل ہے جہاں زلزلے اکثر آتے رہتے ہیں، اسی وجہ سے یہاں جدید و مضبوط انفراسٹرکچر تعمیر کیا گیا ہے۔ ماہرین کے مطابق عوام کو محتاط رہنے اور آفٹر شاکس کے پیش نظر حفاظتی ہدایات پر عمل کرنے کی ضرورت ہے۔ حکام نے شہریوں کو مشورہ دیا ہے کہ وہ غیر مصدقہ خبروں پر یقین نہ کریں اور سرکاری اعلانات پر ہی اعتماد کریں۔