وینزویلا میں امریکی کارروائی اس وقت شدت اختیار کر گئی جب کاراکس پر حملے کیے گئے جس کے بعد وینزویلا کے حکام نے ممکنہ شہری ہلاکتوں پر خبردار کیا اور صدر مادورو کی زندگی کے ثبوت کا مطالبہ کیا، خاص طور پر اس پس منظر میں کہ امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے مادورو کی گرفتاری کا دعویٰ کیا ہے۔
وینزویلا کے سینئر حکام نے تصدیق شدہ امریکی حملوں اور صدر ٹرمپ کے دعوؤں کے بعد ہنگامی بیانات جاری کیے جن میں کہا گیا کہ امریکی کارروائی ایک نازک مرحلے میں داخل ہو چکی ہے۔
یہ بھی پڑھیں: امریکا نے وینزویلا پر حملہ کر دیا، شہر تاریکی میں ڈوب گیا
وینزویلا کے وزیرِ دفاع نے کہا کہ ملک کسی بھی غیر ملکی افواج کی موجودگی کی مزاحمت کرے گا اور امریکا پر الزام عائد کیا کہ تازہ حملوں میں شہری علاقوں کو نشانہ بنایا گیا، ان کا کہنا تھا کہ حملوں کے نتیجے میں جاں بحق یا زخمی ہونے والوں کے اعداد و شمار اکٹھے کیے جا رہے ہیں۔
سرکاری ٹی وی پر نشر ہونے والی ایک ٹیلی فونک گفتگو میں وینزویلا کی نائب صدر نے کہا کہ حکومت کو صدر مادورو کے موجودہ مقام کے بارے میں کوئی علم نہیں۔
انہوں نے صدر ٹرمپ کے اس دعوے کے بعد فوری طور پر اس بات کا ثبوت مانگا کہ صدر مادورو اور ان کی اہلیہ زندہ ہیں جن کے بارے میں کہا گیا ہے کہ انہیں حراست میں لے کر ملک سے باہر منتقل کر دیا گیا ہے۔
یہ بھی پڑھیں: پاکستان نے تیمور کروز میزائل کا کامیاب تجربہ کرلیا
اس سے قبل امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے کہا تھا کہ امریکی افواج نے وینزویلا میں بڑے پیمانے پر کارروائی کی جو امریکی قانون نافذ کرنے والے اداروں کے ساتھ مشترکہ طور پر انجام دی گئی، ان کے مطابق کاراکس میں مربوط کارروائیوں کے دوران صدر مادورو اور ان کی اہلیہ سیلیا فلورس کو گرفتار کیا گیا۔
صدر مادورو کی حکومت نے ملک بھر میں ہنگامی حالت نافذ کرتے ہوئے امریکی کارروائی کو سنگین فوجی جارحیت قرار دیا، حکام نے سیاسی اور سماجی اتحاد پر زور دیا جبکہ سکیورٹی فورسز نے کنٹرول سخت کر دیا اور اہم علاقوں میں بکتر بند گاڑیاں گشت کرتی دیکھی گئیں۔