ظہران ممدانی نے جمعرات کے روز نیویارک سٹی کے میئر کے طور پر حلف اٹھایا اس طرح وہ امریکا کے سب سے بڑے شہر کی قیادت کرنے والے پہلے مسلمان، پہلے جنوبی ایشیائی اور کئی دہائیوں میں سب سے کم عمر میئر بن گئے۔
34 سالہ ممدانی نے تاریخی طور پر غیر فعال سٹی ہال سب وے اسٹیشن میں حلف اٹھایا، جہاں انہوں نے قرآن پاک پر ہاتھ رکھ کر حلف لیا، یہ تقریب نیویارک کی اٹارنی جنرل لیٹیشیا جیمز نے منعقد کروائی، ممدانی نے اس موقع کو زندگی کا سب سے بڑا اعزاز اور شرف قرار دیا۔
یوگنڈا کے شہر کمپالا میں پیدا ہونے والے ممدانی سات سال کی عمر میں نیویارک منتقل ہوئے، وہ 2018 میں امریکی شہری بنے اور انہوں نے نائن الیون کے بعد کے اس نیویارک میں پرورش پائی جہاں مسلمانوں کو اکثر امتیازی سلوک کا سامنا کرنا پڑتا تھا۔
یہ بھی پڑھیں: سوئٹزرلینڈ: سکی ریزورٹ بار میں دھماکا، 10 افراد ہلاک
اپنی انتخابی مہم کے دوران ممدانی نے مہنگائی کے مسئلے پر زور دیا اور انقلابی پالیسیوں کا وعدہ کیا جن میں مفت بچوں کی نگہداشت، مفت بس سروس، تقریباً دس لاکھ گھروں کے لیے کرایوں پر پابندی (رینٹ فریز) اور سرکاری سطح پر چلائے جانے والے گروسری اسٹورز شامل ہیں۔
اگرچہ ان کی حکومت کے ایجنڈے میں بڑے اور پرجوش منصوبے شامل ہیں، ممدانی کو دنیا کے سب سے بڑے شہروں میں سے ایک کے انتظامی چیلنجز کا بھی سامنا ہوگا جن میں کچرے کا انتظام، برفباری، سب وے کی تاخیر، سڑکوں کے گڑھے اور چوہوں کا مسئلہ شامل ہے۔
ایک جمہوری سوشلسٹ کے طور پر وہ بلند توقعات کے ساتھ اقتدار میں آئے ہیں اور نیویارک میں مہنگائی کے بحران سے نمٹنے کا وعدہ کر رہے ہیں جبکہ ساتھ ہی شہر کے روزمرہ انتظامی حقائق کو بھی سنبھالنا ہوگا۔