نادرا نے سیلف سروس کا آغاز کر دیا
NADRA
فائل فوٹو
فیصل آباد: (ویب ڈیسک) نیشنل ڈیٹا بیس اینڈ رجسٹریشن اتھارٹی نے فیصل آباد کے میگا سینٹر میں سیلف سروس کاؤنٹر کا آغاز کر دیا ہے۔

نادرا نے سوشل میڈیا پر جاری بیان میں بتایا کہ یہ کاؤنٹر شہریوں کو ب فارم، قومی شناختی کارڈ کی تجدید اور متبادل شناختی کارڈ کے لیے خود درخواست جمع کروانے کی سہولت فراہم کرتا ہے۔

اس اقدام سے نہ صرف شہریوں کو آسان اور بے جھنجھٹ سہولت ملے گی بلکہ نادرا سینٹر پر رش میں بھی کمی آئے گی اور درخواستوں کی تیز تر کارروائی ممکن ہو سکے گی۔

فیصل آباد میں گیٹ وے چوک، ستیانہ روڈ پر واقع نادرا رجسٹریشن سینٹر اور بٹالہ کالونی میں واقع نادرا سینٹر میں سیلف سروس کاؤنٹرعوام کے لیے دستیاب ہیں۔

20 جنوری 2026 سے نادرا ان شہریوں کے لیے فیشل ریکگنیشن پر مبنی بایومیٹرک تصدیقی سرٹیفکیٹ جاری کرے گا جن کی فنگر پرنٹ کے ذریعے تصدیق ممکن نہیں ہوتی۔

یہ بھی پڑھیں: پبلک ٹرانسپورٹ کے کرایوں میں نمایاں کمی

جہاں بھی کسی ادارے کو اس نوعیت کی تصدیق درکار ہو، شہری کسی بھی نادرا رجسٹریشن سینٹر سے صرف 20 روپے کی معمولی فیس ادا کر کے یہ سرٹیفکیٹ حاصل کر سکتے ہیں۔

اس طریقہ کار کے تحت اگر کسی ادارے میں فنگر پرنٹ بایومیٹرک تصدیق ناکام ہو جائے تو شہری قریبی نادرا رجسٹریشن سینٹر جا کر نئی تصویر بنوائے گا، یہ تصویر نادرا کے ریکارڈ میں موجود تصویر سے ملائی جائے گی۔

کامیاب تصدیق کے بعد نادرا ایک سرٹیفکیٹ جاری کرے گا جس میں تصدیق کا مقصد، شہری کی تازہ تصویر، ریکارڈ میں موجود تصویر، شناختی کارڈ نمبر، نام، والد کا نام، ایک منفرد ٹریکنگ آئی ڈی اور کیو آر کوڈ شامل ہوگا۔

یہ بھی پڑھیں: کراچی: دفعہ 144 کے تحت ڈبل سواری پر پابندی عائد

یہ سرٹیفکیٹ سات دن کے لیے مؤثر ہوگا، شہری اسے متعلقہ ادارے میں جمع کروائے گا جہاں ادارہ اسے اپنے ریکارڈ میں شامل کر کے نادرا کے ذریعے آن لائن تصدیق کرے گا۔

مستقبل میں فیشل امیج پر مبنی بایومیٹرک تصدیقی سرٹیفکیٹ نادرا کی ای سہولت فرنچائزز کے ذریعے بھی دستیاب ہوں گے، ڈیجیٹل آئی ڈی کے باضابطہ اجرا کے بعد یہ سہولت پاک آئی ڈی ایپ کے ذریعے تمام خدمات کے لیے فراہم کی جائے گی۔

نادرا اس نظام کے نفاذ کے لیے مکمل طور پر تیار ہے، تاہم مؤثر عمل درآمد کے لیے نادرا نے تمام ریگولیٹرز، سرکاری اداروں اور نجی تنظیموں سے درخواست کی ہے کہ وہ منظور شدہ معیار کے مطابق اپنے ہارڈویئر اور سافٹ ویئر کو مرحلہ وار اپ گریڈ کریں تاکہ اس بایومیٹرک تصدیقی نظام کا استعمال ممکن بنایا جا سکے۔