سوئٹزرلینڈ: سکی ریزورٹ بار میں دھماکا، 10 افراد ہلاک
سوئٹزرلینڈ سیاحتی مقام کرانس مونٹانا
سوئٹزرلینڈ کے سیاحتی مقام کرانس مونٹانا میں دھماکا مقامی وقت کے مطابق را ت 1 بج کر 30 منٹ پر ہوا/ فائل فوٹو
(ویب ڈیسک): سوئٹزرلینڈ میں سالِ نو کی خوشیاں اس وقت غم میں تبدیل ہوگئیں جب مشہور سیاحتی مقام کرانس مونٹانا کے ایک سکی ریزورٹ میں واقع بار میں زور دار دھماکے میں 10 افراد ہلاک جبکہ 10 سے زائد زخمی ہو گئے۔ دھماکے کے بعد علاقے میں خوف و ہراس پھیل گیا۔

خبر ایجنسی کے مطابق دھماکا مقامی وقت کے مطابق رات 1 بج کر 30 منٹ پر ہوا۔ جس مقام پر دھماکا ہوا وہاں بڑی تعداد میں لوگ سالِ نو کا جشن منانے کے لیے جمع تھے۔ ابتدائی اطلاعات کے مطابق دھماکے کے وقت بار میں 100 سے زیادہ افراد موجود تھے، جن میں مقامی شہریوں کے ساتھ غیر ملکی سیاح بھی شامل تھے۔ دھماکے کی شدت اتنی زیادہ تھی کہ بار کے شیشے ٹوٹ گئے اور آس پاس کی عمارتوں کو بھی نقصان پہنچا۔

یہ بھی پڑھیں: نئے سال پر اماراتی شہریوں کیلئے تنخواہوں میں اضافے کا اعلان

عینی شاہدین کا کہنا ہے کہ دھماکے کے فوراً بعد چیخ و پکار سنائی دی، جبکہ زخمی افراد کو نکالنے کے لیے ریسکیو ٹیموں نے فوری کارروائی شروع کی۔ ایمبولینسز کے ذریعے زخمیوں کو قریبی ہسپتالوں میں منتقل کیا گیا، جہاں بعض زخمیوں کی حالت تشویشناک بتائی جا رہی ہے۔ مقامی حکام نے خدشہ ظاہر کیا ہے کہ ہلاکتوں میں اضافے کا امکان بھی موجود ہے۔

مقامی انتظامیہ کے مطابق دھماکے کی نوعیت تاحال معلوم نہیں ہو سکی۔ سوئس پولیس نے فوری طور پر واقعے کی جگہ کو گھیرے میں لے کر تحقیقات کا آغاز کر دیا ہے۔ پولیس حکام کا کہنا ہے کہ ابتدائی شواہد کی بنیاد پر اس واقعے کو دہشت گرد حملہ قرار نہیں دیا جا سکتا۔

یہ بھی پڑھیں: ایران کا جوہری پروگرام، ٹرمپ کی سخت نتائج کی دھمکی

سوئس پولیس نے دہشت گردی کے خدشے کی تردید کرتے ہوئے کہا ہے کہ واقعے کی تمام پہلوؤں سے تحقیقات جاری ہیں اور دھماکے کی اصل وجہ جاننے کے لیے فرانزک ماہرین کی مدد لی جا رہی ہے۔

حکام کے مطابق سکی ریزورٹ اور آس پاس کے علاقوں میں سکیورٹی سخت کر دی گئی ہے، جبکہ شہریوں اور سیاحوں سے اپیل کی گئی ہے کہ وہ افواہوں پر کان نہ دھریں اور حکام کے ساتھ تعاون کریں۔ سوئٹزرلینڈ کے اعلیٰ حکام کی جانب سے واقعے پر گہرے دکھ اور افسوس کا اظہار کیا گیا ہے اور جاں بحق افراد کے لواحقین سے تعزیت کی گئی ہے۔