رپورٹس کے مطابق یہ جدید روبوٹک نظام چین کی اکیڈمی آف سائنسز کے انسٹی ٹیوٹ آف آٹومیشن کے ماہرین نے تیار کیا ہے۔
اس روبوٹ کو اس انداز میں ڈیزائن کیا گیا ہے کہ یہ آنکھ کی انتہائی نازک اور پیچیدہ ساخت میں بھی مؤثر اور محفوظ طریقے سے سرجری انجام دے سکتا ہے۔
تحقیق میں بتایا گیا کہ یہ روبوٹ ریٹینا سے متعلق بیماریوں کے علاج کیلئے سب ریٹینل اور انٹراویسکولر انجیکشنز لگانے کی مکمل صلاحیت رکھتا ہے۔ جانوروں پر کیے گئے تجربات میں اس نظام نے 100 فیصد کامیابی کے ساتھ انجیکشنز دیے، جو ایک بڑی سائنسی پیش رفت قرار دی جا رہی ہے۔
واضح رہے کہ آنکھ کی سرجری، خاص طور پر ریٹنا کی جراحی، نہایت حساس عمل ہوتی ہے کیونکہ آنکھ کا حجم بہت چھوٹا اور بافتیں نرم ہوتی ہیں۔
ذرا سی لغزش بھی بینائی کو مستقل نقصان پہنچا سکتی ہے، اسی مشکل کو مدنظر رکھتے ہوئے اس روبوٹ میں ڈی تھری اسپیشل پرسیپشن، انتہائی درست پوزیشننگ اور جدید ٹریکٹری کنٹرول الگورتھمز استعمال کیے گئے ہیں، جو روبوٹک بازو کی درست رہنمائی کرتے ہیں۔
یہ بھی پڑھیں:آئی فون صارفین کیلئے بڑی خوشخبری، ٹیکسوں میں بھاری کمی
مطالعے کے مطابق آنکھوں کے مصنوعی ماڈلز، ایکس وائیوو سور کی آنکھوں اور زندہ جانوروں پر کیے گئے تجربات میں یہ روبوٹ دستی سرجری کے مقابلے میں اوسط پوزیشننگ کی غلطیوں کو تقریباً 80 فیصد اور سرجن کے زیر کنٹرول روبوٹک سرجری کے مقابلے میں تقریباً 55 فیصد تک کم کرنے میں کامیاب رہا۔
واضح رہے کہ اس اہم تحقیق کو عالمی شہرت یافتہ سائنسی جریدے سائنس روبوٹکس میں شائع کیا گیا، جسے مستقبل کی آنکھوں کی سرجری میں انقلابی قدم قرار دیا جا رہا ہے۔