اعداد و شمار کے مطابق بابر اعظم نے ورلڈکپ مقابلوں میں اگرچہ مجموعی طور پر خاطر خواہ رنز اسکور کیے، تاہم ان کا اسٹرائیک ریٹ دیگر سرکردہ بیٹرز کے مقابلے میں کم رہا۔ ٹی ٹوئنٹی فارمیٹ کو عموماً تیز رفتار کھیل سمجھا جاتا ہے جہاں بیٹرز سے توقع کی جاتی ہے کہ وہ کم گیندوں پر زیادہ رنز اسکور کریں۔ ایسے میں کم اسٹرائیک ریٹ اکثر تنقید کا باعث بنتا ہے، خاص طور پر جب ٹیم کو بڑے ہدف کے تعاقب یا پاور پلے میں تیز آغاز کی ضرورت ہو۔
یہ بھی پڑھیں: پاکستان نے نمیبیا کو ہرا کر سپر ایٹ کیلئے کوالیفائی کرلیا
کرکٹ ماہرین کا کہنا ہے کہ بابر اعظم بنیادی طور پر کلاسیکل اسٹروک پلے کے حامل بیٹر ہیں جو وکٹ پر قیام اور اننگز کو سنبھالنے کی صلاحیت رکھتے ہیں۔ ان کا کھیل تکنیکی مہارت، ٹائمنگ اور شاٹس کے انتخاب پر مبنی ہے، تاہم ٹی ٹوئنٹی کے جدید تقاضے جارحانہ انداز کو زیادہ اہمیت دیتے ہیں۔ بعض تجزیہ کاروں کے مطابق ٹیم کی حکمت عملی، بیٹنگ آرڈر اور میچ کی صورتحال بھی اسٹرائیک ریٹ پر اثر انداز ہوتی ہے۔
سابق کرکٹرز کی رائے میں بابر اعظم کی صلاحیتوں پر شک نہیں کیا جا سکتا کیونکہ وہ پاکستان کے کامیاب ترین بیٹرز میں شمار ہوتے ہیں اور متعدد مواقع پر ٹیم کو مشکل حالات سے نکالا ہے۔ تاہم عالمی مقابلوں میں کارکردگی ہمیشہ زیادہ جانچی جاتی ہے، جہاں ہر اننگز کا دباؤ اور معیار بلند ہوتا ہے۔ ناقدین کا کہنا ہے کہ مستقبل میں انہیں اپنی بیٹنگ میں جدت اور رفتار شامل کرنے کی ضرورت ہے تاکہ ٹیم کو بہتر آغاز اور مضبوط مجموعہ فراہم کیا جا سکے۔
سوشل میڈیا پر اس حوالے سے ملے جلے ردعمل دیکھنے میں آ رہے ہیں۔ کچھ شائقین بابر اعظم کی حمایت کرتے ہوئے انہیں ٹیم کی ریڑھ کی ہڈی قرار دے رہے ہیں، جبکہ دیگر کا خیال ہے کہ ٹی ٹوئنٹی جیسے مختصر فارمیٹ میں اسٹرائیک ریٹ کلیدی حیثیت رکھتا ہے۔