اسپاٹ فکسنگ اور رشوت لینے کی سازش پر ناصر جمشید نے پاکستانی قوم اور دنیا بھر میں کرکٹ شائقین سے معافی مانگ لی، جیل میں مشکل وقت گزرا، سوچ رہا تھا خودکشی کرلوں، ناصر جمشید بیتے دنوں کو یاد کر کے روہانسے ہو گئے۔
ناصر جمشید کا کہنا تھا کہ میں شرمندہ ہوں، جو کیا مکمل طور پر غلط تھا، نئے کھلاڑیوں کو کہوں گا کہ کبھی بدعنوانی میں ملوث نہ ہوں، ایسے کسی بھی کام میں ملوث ہونے کے نتیجہ میں آپ کے علاوہ آپ کا پورا خاندان بھی تکلیف سے گزرتا ہے۔
انہوں نے بتایا کہ مشکل وقت میں اہلیہ نے میری جان بچائی، وہ بیٹی کی تصاویر بھیجتی تو حوصلہ ملتا تھا، پھر اس کیلئے جینے کا فیصلہ کیا، چیئرمین پی سی بی محسن نقوی سے درخواست ہے میری پابندی کا ایک سال جو رہ گیا ہے اسے معاف کر دیں۔
سابق قومی کرکٹر نے اعتراف کیا کہ میں یوسف انور کے ساتھ سازش میں شامل تھا، میں نے اس کا شرجیل اور خالد لطیف سے رابطہ کرایا تھا۔
یہ بھی پڑھیں: پاکستان سپر لیگ: پہلی مرتبہ پلیئرز آکشن کا آغاز
ناصر جمشید کے وکیل شاہد علی کو سالیسٹرز ڈسپلنری ٹریبونل نے بددیانت قرار دیتے ہوئے 40 ہزار پاؤنڈ جرمانہ اور 30 ہزار قانونی اخراجات ادا کرنے کا حکم دیاتھا، شاہد علی کے خلاف ناصر جمشید کے اہلیہ ڈاکٹر سمارا افضل نے کیس کے دوران فنڈز اور کمیونیکیشنز کے حوالے سے مناسب رویہ نہ اپنانے پر شکایت کی تھی۔
انہوں نے وکیل شاہد علی کے خلاف فیصلے کا خیرمقدم کرتے ہوئے کہا ہے کہ اس سے ثابت ہوتا ہے کہ اس نے کیس غلط ہینڈل کیا، مجھے وکیل نے ہی مشورہ دیا تھا کہ اعتراف جرم نہ کروں اور کرکٹ بورڈ سے رابطے ختم کردوں، شاہد علی کے غلط رہنمائی کے سبب میں ناکام ہوا، اسے اپنے پیسہ بنانے سے غرض تھی۔
ناصر جمشید کا کہنا تھا کہ برمنگھم کے شیشہ کیفے میں میری رکارڈ کی گئی گفتگو عدالت میں سنوائی گئی تو میں نے جرم قبول کرلیا تھا، میرے وکیل نے وہ گفتگو سنی تھی اور ان کا کہنا تھا کہ اس میں آواز صاف نہیں اور وہ عدالت میں سنوائی بھی نہیں جائے گی۔
انہوں نے کہا کہ والد کے ایکسیڈنٹ میں برین ہیمرج اور گھریلو حالات کے سبب پیسہ کمانے کیلئے شارٹ کٹ اختیار کیا تھا، غلطی پر سخت پچھتاوا ہے، میں نے اس کی بہت بڑی قیمت ادا کی ہے، وکیل درست مشورہ دیتا تو سزا کم ہوتی اور پابندی بھی ختم ہوچکی ہوتی۔
اس کو بھی پڑھیں: آئی سی سی نے پاکستان کے سامنے گھٹنے ٹیک دیے
یاد رہے کہ سپاٹ فکسنگ کا جرم ثابت ہونے پر مانچسٹر کراؤن کورٹ نے ناصر جمشید کو 17 ماہ قید کی سزا کے علاوہ ہر قسم کی کرکٹ پر 10 برس کیلئے پابندی عائد کی تھی۔
اسپاٹ فکسنگ سازش میں ملوث یوسف انور اور محمد اعجاز کے اعتراف جرم کے بعد انھیں جیل کی سزائیں سنائی گئی تھیں، پی سی بی نے شرجیل خان اور خالد لطیف پر پانچ اور اڈھائی برس کیلئے ہر قسم کی کرکٹ پر پابندی عائد کردی تھی۔
واضح رہے کہ شاہد علی سے متعلق سالیسٹرز ڈسپلنری ٹریبونل میں شکایت ناصر جمشید کی اہلیہ ڈاکٹر سمارا افضل نے کی تھی جس میں ٹریبونل کو بتایا گیا کہ ڈاکٹر افضل کے گھر سے ضبط 5 ہزار 500 پاؤنڈ کی رقم واپس کئے جانے کے باوجود شاہد علی نے دو سال تک اپنے پاس رکھی۔
ٹریبونل کو بتایا گیا کہ شاہد علی ناصر جمشید اور ڈاکٹر سمارا افضل کی طرف سے بار بار استفسار کے باوجود دو سال تک رقم وصول کرنے سے انکار کرتے رہے، ناصر جمشید نے قانونی فیس کی مد میں شاہد علی کو 15 ہزار پاؤنڈ نقد بھی ادا کئے بعد میں پتہ چلاکہ ان کا کیس تو لیگل ایڈ پر لڑا جا رہا ہے۔
شاہد علی کا مؤقف جاننے کیلئے متعدد بار رابطہ کئے جانے کے باوجود انہوں نے کوئی جواب نہیں دیا۔