سابق قومی کپتان شاہد آفریدی نے سماجی رابطوں کی ویب سائٹ ایکس (سابقہ ٹویٹر) پر جاری ایک پیغام میں کہا کہ سابق انٹرنیشنل کرکٹر کی حیثیت سے آئی سی سی کی پالیسی میں تسلسل نہ ہونے کہ وجہ سے مجھے سخت مایوسی ہوئی۔
سابق کپتان کا کہنا تھا کہ آئی سی سی نے گزشتہ برس 2025 میں پاکستان کا دورہ نہ کرنے کے لیے بھارت کے سکیورٹی خدشات کو تسلیم کیا لیکن بنگلا دیش کے معاملے میں اسی چیز کو سمجھنے پر آمادہ نہیں۔
As a former international cricketer who has played in Bangladesh and in ICC events, I’m deeply disappointed by today's ICC’s inconsistency. It accepted India’s security concerns for not touring Pakistan in 2025, yet appears unwilling to apply the same understanding to Bangladesh.…
— Shahid Afridi (@SAfridiOfficial) January 24, 2026
انہوں نے مزید کہا کہ تسلسل اور برابری بین الاقوامی کرکٹ گورننس کی بنیاد ہے، بنگلا دیش کے کھلاڑی اور اس کے لاکھوں مداحوں کے ساتھ ناانصافی کی گئی، آئی سی سی کو پل بنایا چاہیے ناکہ اسے گرانا چاہیے۔
یہ بھی پڑھیں: ٹی ٹوئنٹی ورلڈ کپ، بنگلہ دیش کی جگہ گروپ سی میں سکاٹ لینڈ شامل
دوسری جانب سابق پاکستانی کپتان محمد یوسف نے بھی اپنے پیغام میں لکھا کہ بنگلادیش کو ورلڈ کپ سے محروم کرنے پر افسوس ہوا، تسلسل اور برابری عالمی کرکٹ گورننس کی بنیاد ہے، آئی سی سی کو کسی ایک ملک کے بورڈ کو سپورٹ کرنے کے بجائے انٹرنیشنل کرکٹ کونسل کی طرح کام کرنا چاہیے۔
Very sad to see a cricket-loving nation like Bangladesh being deprived of cricket due to security concerns not being addressed.
— Mohammad Yousaf (@yousaf1788) January 25, 2026
When similar concerns were raised earlier, a neutral venue was approved. Standards cannot change from country to country.
ICC must act as the…
واضح رہے کہ بھارتی میڈیا کے بعد اب کرکٹ ویب سائٹ نے بھی دعویٰ کیا ہے کہ انٹرنیشنل کرکٹ کونسل ( آئی سی سی) نے بنگلا دیش کی جگہ اسکاٹ لینڈ کو بھارت میں ہونے والے ٹی ٹوئنٹی ورلڈ کپ میں شامل کرلیا ہے۔