رپورٹ کے مطابق سرکاری نرخنامے میں ضلعی انتظامیہ کی جانب سے دودھ کی سرکاری قیمت 180 روپے فی کلو مقرر ہے جبکہ مارکیٹ میں دودھ سرکاری نرخوں کے برعکس 210 روپے فی کلو تک فروخت کیا جا رہا ہے۔
اسی طرح دہی کے سرکاری نرخ ریٹ لسٹ میں 210 روپے فی کلو مقرر ہیں تاہم مارکیٹ میں دہی 240 روپے فی کلو تک بیچا جا رہا ہے۔
شہریوں کا کہنا ہے کہ سرکاری نرخنامہ صرف کاغذوں تک محدود ہو کر رہ گیا ہے اور دکاندار اپنی من چاہی قیمتوں پر دودھ اور دہی فروخت کررہے ہیں، دودھ اور دہی جیسی روزمرہ ضروری اشیاء کی بڑھتی ہوئی قیمتیں غریب اور متوسط طبقے کو شدید متاثر کر رہی ہیں۔
عوامی حلقوں نے متعلقہ حکام سے دودھ اور دہی جیسی بنیادی اشیائے ضروریہ کی قیمتوں کو فوری طور پر کنٹرول کرنے کا مطالبہ کیا ہے۔
یہ بھی پڑھیں: ہونڈا سِوک 2026 فیس لفٹ ماڈلز کی تعارفی قیمتیں جاری
دوسری جانب مارکیٹ میں برائلر گوشت کی قیمتیں بھی آسمان سے باتیں کرتی دکھائی دے رہی ہیں جس سے عام صارفین شدید پریشان ہیں۔
مارکیٹ ذرائع کا بتانا ہے کہ برائلر گوشت کی سرکاری قیمت 526 روپے فی کلو مقرر کی گئی ہے تاہم اوپن مارکیٹ میں برائلر گوشت 550 روپے فی کلو تک فروخت ہو رہا ہے، اسی طرح زندہ مرغی کی قیمت 363 روپے فی کلو جبکہ بون لیس گوشت کی قیمت 700 روپے فی کلو تک جا پہنچی ہے۔
اشیائے ضروریہ کی قیمتوں میں ہوشربا اضافے نے شہریوں کی مشکلات میں مزید اضافہ کردیا ہے ، پروٹین کا اہم ذریعہ گوشت عوام سے پہنچ سے دور ہوتا چلا جارہا ہے۔