انہوں نے کہا کہ آئی سی سی کی جانب سے فیصلہ آنے کے بعد پاکستان کے پاس تمام ممکنہ منصوبے موجود ہیں اور ملک اپنے اصولی مؤقف پر قائم رہے گا۔
اسلام آباد میں پریس کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے محسن نقوی کا کہنا تھا کہ پاکستان کرکٹ بورڈ تمام تر معاملات میں حکومت کے فیصلوں کا پابند ہے، ہم آئی سی سی کے رکن ہیں لیکن قومی مفادات کے حوالے سے حکومت کے دائرہ اختیار میں آتے ہیں، اس لیے ورلڈ کپ سے متعلق جو بھی فیصلہ ہوگا وہ حکومت ہی کرے گی۔
چیئرمین پی سی بی نے بنگلہ دیش کے معاملے پر بات کرتے ہوئے کہا کہ موجودہ صورتحال میں بنگلہ دیش کے ساتھ زیادتی ہو رہی ہے اور اسے ہر صورت ورلڈ کپ میں شامل ہونا چاہیے، کسی ایک ملک کیلئے الگ اصول اور دوسرے کیلئے مختلف رویہ انصاف کے تقاضوں کیخلاف ہے۔
یہ بھی پڑھیں:سابق کرکٹر عبدالقادر کے بیٹے کیخلاف گھریلو ملازمہ سے جنسی زیادتی کا مقدمہ درج
کھلاڑیوں سے متعلق سوال پر محسن نقوی نے کہا کہ فراڈ کے معاملے پر ابھی تک کسی کھلاڑی نے پی سی بی سے رابطہ نہیں کیا، اگر کھلاڑی خود آگاہ کریں گے تو اس پر فیصلہ کیا جائے گا، وزیراعظم کی وطن واپسی کا انتظار ہے، اس کے بعد اہم مشاورت ہوگی۔
اس موقع پر انہوں نے اسٹیڈیمز کی بہتری سے متعلق بھی گفتگو کی اور کہا کہ پنجاب حکومت کے تعاون سے گراؤنڈز اور اسٹیڈیمز کی سہولیات کو بہتر بنایا جا رہا ہے تاکہ شائقین اور کھلاڑیوں کو عالمی معیار کی سہولیات فراہم کی جا سکیں۔