زمبابوے کرکٹ کی جانب سے جاری کیے گئے ایک باضابطہ بیان میں سکندر رضا کے بھائی کے انتقال کی تصدیق کرتے ہوئے کہا گیا کہ محمد مہدی 29 دسمبر کو دارالحکومت ہرارے میں انتقال کر گئے۔ بیان کے مطابق محمد مہدی پیدائشی طور پر ایک سنگین اور نایاب بیماری ہیموفیلیا میں مبتلا تھے، جس کے باعث انہیں طویل عرصے سے طبی پیچیدگیوں کا سامنا تھا۔ حالیہ دنوں میں ان کی صحت مزید بگڑ گئی، جس کے نتیجے میں وہ جانبر نہ ہو سکے۔
یہ بھی پڑھیں: حارث رؤف خوفناک حادثے سے بال بال بچ گئے
ہیموفیلیا ایک ایسی بیماری ہے جس میں خون جمنے کی صلاحیت متاثر ہو جاتی ہے، معمولی زخم یا چوٹ بھی جان لیوا ثابت ہو سکتی ہے۔ محمد مہدی کی کم عمری میں اس بیماری سے طویل جدوجہد نے اہل خانہ کے لیے اس نقصان کو مزید تکلیف دہ بنا دیا ہے۔
یہ بھی پڑھیں: سری لنکا کیخلاف ٹی 20 سیریز کیلئے قومی اسکواڈ کا اعلان
زمبابوے کرکٹ نے اپنے بیان میں کہا کہ اس کٹھن وقت میں کرکٹ بورڈ، ٹیم مینجمنٹ، کھلاڑی اور اسٹاف سکندر رضا اور ان کے خاندان کے ساتھ کھڑے ہیں۔ زمبابوے کرکٹ نے مرحوم کے لیے دعائے مغفرت اور لواحقین کے لیے صبر جمیل کی دعا بھی کی ہے۔
سکندر رضا کا شمار زمبابوے کے اہم ترین کرکٹرز میں ہوتا ہے، جنہوں نے نہ صرف اپنی شاندار آل راؤنڈ کارکردگی سے ٹیم کو کئی اہم فتوحات دلائیں بلکہ بطور کپتان بھی ٹیم کی قیادت کی۔ اس ذاتی صدمے کے باوجود، کرکٹ شائقین اور ساتھی کھلاڑیوں کی جانب سے ان کے لیے ہمدردی اور تعزیت کے پیغامات کا سلسلہ جاری ہے۔