فیصل واوڈا کا بڑا دعویٰ، خیبر پختونخوا میں ابھی پارٹ ٹو اور تھری باقی ہیں
فیصل واوڈا نے دعویٰ کیا کہ گزشتہ دو برس کے دوران خیبر پختونخوا میں دہشت گردی کے واقعات میں 195 فیصد اضافہ ہوا ہے۔ ان کے مطابق صوبے میں 13 سال تک حکومت کرنے والوں نے عوام کو ترقی دینے کے بجائے تباہی دی۔
پی ٹی آئی کے لانگ مارچ اور گرفتاریوں پر تبصرہ کرتے ہوئے فیصل واوڈا نے دعویٰ کیا کہ پارٹی رہنما خود گرفتار ہونا چاہتے تھے۔ ان کا کہنا تھا کہ جس وقت یہ واقعات پیش آ رہے تھے، صوبائی کابینہ کے آٹھ ارکان اسلام آباد میں ان کے پاس موجود تھے۔
فیصل واوڈا نے پی ٹی آئی کے لانگ مارچ کو تنقید کا نشانہ بناتے ہوئے کہا کہ چند سو افراد کے ساتھ بڑے طوفان کی توقع کی جا رہی تھی۔ انہوں نے انگریزی محاورہ ’دی شو اِز اوور‘ استعمال کرتے ہوئے کہا کہ عوام اب نعروں کے بجائے اپنے مسائل حل کرنے والوں کا ساتھ دیں گے۔
یہ بھی پڑھیں: پی ٹی آئی کا گورنر راج چیلنج کرنے کا اعلان
عمران خان سے متعلق گفتگو کرتے ہوئے فیصل واوڈا نے کہا کہ انہوں نے انہیں سیاست سکھائی، جس پر وہ ان کے مشکور ہیں۔ ان کا کہنا تھا کہ وہ عمران خان کو مشکلات سے بچانا چاہتے تھے، تاہم پارٹی کے بعض افراد نے ان کی مقبولیت سے فائدہ اٹھایا۔
خیبر پختونخوا میں گورنر راج اور ایمرجنسی کے معاملے پر بات کرتے ہوئے فیصل واوڈا نے کہا کہ گورنر راج غیر آئینی اقدام نہیں اور ان کے مطابق صوبے میں ایمرجنسی کا فیصلہ عوام کے مفاد میں کیا گیا ہے۔
نئی صوبائی کابینہ کے حوالے سے انہوں نے مثبت توقعات کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ اگلے 180 دن انتہائی اہم ہیں۔ ان کے بقول نئی کابینہ کی کامیابی کے امکانات 99 فیصد ہیں، اور اگر یہ کابینہ بہتر کارکردگی نہ دکھا سکی تو اس سے بہتر افراد کو ذمہ داریاں دی جائیں گی۔
بلوچستان کی صورتحال پر گفتگو کرتے ہوئے سینیٹر فیصل واوڈا نے کہا کہ حکومت دہشت گردی کا خاتمہ چاہتی ہے۔ انہوں نے دعویٰ کیا کہ نظام میں تبدیلی کے ساتھ سیاسی اور معاشی دہشت گردی میں ملوث عناصر کے خلاف بھی کارروائی کی جائے گی۔