محمود اچکزئی کی حکومت سے مذاکرات پر اپوزیشن کو اہم ہدایت
میڈیا رپورٹس کے مطابق محمود اچکزئی نے اپوزیشن قیادت کو حکومت سے دوبارہ مذاکرات کے حوالے سے ہدایات دیتے ہوئے واضح کیا ہے کہ بانی پی ٹی آئی عمران خان سے ملاقات اپوزیشن کی پہلی شرط ہونی چاہیے۔
انہوں نے کہا کہ حکومت بانی پی ٹی آئی کی بہنوں کی رہائی سے بھی مذاکرات کے عمل میں مثبت پیش رفت کا آغاز کرسکتی ہے۔
محمود اچکزئی کا کہنا تھا کہ اگر حکومت عمران خان سے ملاقات پر رضامند نہیں ہوتی تو وزیراعظم سے ملاقات بے معنی ہوگی۔
محمود اچکزئی نے یہ پیغام اخونزادہ حسین یوسفزئی کے ذریعے اپوزیشن رہنماؤں تک پہنچایا ہے۔
واضح رہے کہ وفاقی حکومت اور تحریک انصاف کے درمیان مذاکرات میں ناکامی کے بعد وزیراعظم شہباز شریف نے ایک بار پھر اپوزیشن کو مذاکرات کی پیشکش کردی ہے۔
یہ بھی پڑھیں: پی ٹی آئی لانگ مارچ،ریڈ زون سیل، پنجاب میں دفعہ 144 کا نفاذ
دوسری جانب چیئرمین پی ٹی آئی بیرسٹر گوہر نے حکومت کی مذاکرات کی دعوت کو صرف ’پیشکش کی حد تک محدود‘ قرار دیا ہے۔
اڈیالہ جیل کے باہر میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے بیرسٹر گوہر نے کہا کہ حکومت کی دعوت محض پیشکش ہوتی ہے، اس کی جانب سے کوئی عملی اقدام نہیں کیا جاتا۔
انہوں نے کہا کہ سب سے قابل تشویش بات یہ ہے کہ ایک سال سے عمران خان سے ملاقات کی اجازت نہیں دی جارہی۔ پی ٹی آئی ہمیشہ ریاست پاکستان کے ساتھ کھڑی رہی ہے لیکن اسے اپنے لیڈر سے ملنے تک کی اجازت نہیں دی جارہی۔
بیرسٹر گوہر نے الزام عائد کیا کہ مذاکرات میں حکومت نے فراخ دلی اور سنجیدگی کا مظاہرہ نہیں کیا۔
خیبرپختونخوا میں ایمرجنسی یا گورنر راج کے نفاذ کی خبروں پر انہوں نے کہا کہ ایسا کوئی قدم اٹھایا گیا تو نفرتیں مزید بڑھیں گی۔
ان کا کہنا تھا کہ حکومت کو گرفتاریوں کا سلسلہ بند کرنا چاہیے اور دہشت گردی کے خلاف نیشنل ایکشن پلان پر عمل درآمد کیا جانا چاہیے۔