گورنرراج یا ایمرجنسی کی دھمکیاں مؤقف نہیں بدل سکتی، سہیل آفریدی
امن و امان سے متعلق اجلاس سے خطاب کرتے ہوئے وزیراعلیٰ سہیل آفریدی نے کہا کہ خیبرپختونخوا کے عوام، پولیس اور فوج نے قیام امن کے لیے بے شمار قربانیاں دی ہیں۔ ان کے مطابق صوبے کے 80 ہزار سے زائد افراد نے جانوں کا نذرانہ پیش کیا، تاہم دو دہائیوں کی قربانیوں سے حاصل ہونے والے امن کو دوبارہ بدامنی کی نذر کردیا گیا۔
سہیل آفریدی کا کہنا تھا کہ انہوں نے بارہا واضح کیا کہ ریاست کی موجودہ پالیسی درست نہیں، تاہم اس حوالے سے مؤثر اقدامات نہیں کیے گئے۔
انہوں نے کہا کہ امن کے لیے اپنے ترقیاتی بجٹ میں 35 ارب روپے کٹوتی کرکے پولیس کو دیے، مالی سال 2026 میں پولیس کی استعداد بڑھانے کے لیے وسائل فراہم کیے، پولیس کے بجٹ میں 103 فیصد اضافہ کیا ہے، پولیس کی نفری اور استعداد کار کو مضبوط، اسپیشل برانچ کو مستحکم اور پولیس کو جدید اسلحہ و دیگر ضروری آلات فراہم کیے جا رہے ہیں۔
یہ بھی پڑھیں: وزیراعلیٰ کی رٹ نہیں، وزراء کو اٹھایا جا رہا ہے: علی امین
وزیر اعلیٰ نے واضح کیا کہ صرف پولیس کو وسائل دینے سے مسئلہ حل نہیں ہوگا، وفاق کو پالیسی میں تبدیلی لانا ہوگی، 15 اکتوبر 2025 سے مسلسل کہہ رہا ہوں کہ 22 سال سے جاری ناکام پالیسی تبدیل کی جائے، خیبر پختونخوا کے تمام اسٹیک ہولڈرز، حکومت، انتظامیہ اور پولیس کو اعتماد میں لے کر نئی پالیسی بنائی جائے۔
انہوں ںے دعویٰ کیا کہ ہماری تجویز کردہ نئی پالیسی پر عمل کیا جائے تو 100 دن میں خیبر پختونخوا میں امن لا سکتے ہیں، مگر کوئی سننے کو تیار نہیں، کچھ لوگ عقل کل بنے ہوئے ہیں اور خیبر پختونخوا کے اسٹیک ہولڈرز کی بات سننے کو تیار نہیں۔
ملک کو کس طرف لے کر جا رہے ہیں، کیا ہمارے لوگوں کا خون اتنا سستا ہے کہ اسے سیاست کی بھینٹ چڑھایا جائے، خیبر پختونخوا کے عوام کی مرضی اور عوامی مینڈیٹ کے برعکس کوئی اقدام قابل قبول نہیں۔
سہیل آفریدی نے مزید کہا کہ ایسی کرسی پر لعنت بھیجتا ہوں جو مجھے اپنے نظریے سے ہٹا دے، گورنر راج یا ایمرجنسی کی دھمکیوں سے اپنے مؤقف سے پیچھے نہیں ہٹوں گا۔
وفاق اپنی پالیسی تبدیل کرے اور پالیسی شفٹ لائیں، اپنے فوجی جوانوں، پولیس اہلکاروں اور شہریوں کو مزید خون خرابے سے بچائیں، پالیسی میں تبدیلی خیبر پختونخوا کے ساتھ پورے پاکستان کے مفاد میں ہے