وزٹ ویزے پر بیرون ملک جانے والے پاکستانی ہوشیار، اہم ہدایات آگئیں
بیورو آف امیگریشن اینڈ اوورسیز ایمپلائمنٹ نے وزٹ ویزے پر بیرون ملک جانے والے پاکستانیوں کو خبردار کرتے ہوئے کہا ہے کہ کسی غیر رجسٹرڈ ایجنٹ یا سب ایجنٹ کے وعدے پر روزگار کے لیے سفر کرنا مشکلات کا باعث بن سکتا ہے۔
حکام کے مطابق بعض ایجنٹس شہریوں کو یہ یقین دہانی کراتے ہیں کہ بیرونِ ملک پہنچتے ہی انہیں ملازمت مل جائے گی یا وزٹ ویزا آسانی سے ورک ویزے میں تبدیل کرا دیا جائے گا شہریوں کو ہدایت کی گئی ہے ایسے دعوؤں پر سرکاری تصدیق کے بغیر ہرگز اعتماد نہ کریں۔
بیورو آف امیگریشن نے واضح کیا ہے کہ وزٹ یا ٹورسٹ ویزا عموماً ملازمت کرنے کی اجازت نہیں دیتا۔ ویزے کی تبدیلی بھی متعلقہ ملک کے قوانین اور مجاز امیگریشن اتھارٹی کے باضابطہ فیصلے سے ہی ممکن ہوتی ہے، اس لیے کوئی ایجنٹ اس کی ضمانت نہیں دے سکتا۔
غیر قانونی کام کے سنگین نتائج
حکام کے مطابق وزٹ یا سیاحتی ویزے پر غیر قانونی طور پر ملازمت کرنے کی صورت میں شہری کو کئی مشکلات کا سامنا کرنا پڑ سکتا ہے۔ جن میں گرفتاری، حراست، مقدمہ، جرمانہ اور ملک بدری شامل ہیں۔
ایسے افراد کو طویل عرصے یا مستقل طور پر بلیک لسٹ کیے جانے کا خطرہ بھی ہوتا ہے جس کے نتیجے میں مستقبل میں ویزا حاصل کرنے اور قانونی ملازمت کے مواقع متاثر ہو سکتے ہیں نیز ملک واپس بھیجے جانے کی صورت میں سفر کے اخراجات بھی خود برداشت کرنا پڑ سکتے ہیں۔
یہ بھی پڑھیں: انڈونیشیا: 240 مسافروں سے بھرا جہاز لاپتا
غیر قانونی حیثیت میں کام کرنے والے افراد کو ملازمت کی جگہ پر استحصال کا بھی زیادہ خطرہ رہتا ہے، انہیں تنخواہ نہ ملنے پر غیر قانونی کٹوتی، طویل اوقات کار اور غیر محفوظ ماحول کا سامنا ہو سکتا ہے۔
اس کے علاؤہ بعض صورتوں میں آجر کی جانب سے پاسپورٹ اپنے قبضے میں رکھنے یا نقل و حرکت محدود کرنے کا خطرہ بھی موجود رہتا ہے جبکہ علاج، قانونی مدد اور شکایات کے موثر نظام تک رسائی بھی مشکل ہوسکتی ہے۔ ایسی صورتحال شہریوں کے لیے ذہنی دباؤ، خوف تنہائی اور اہل خانہ کے لیے پریشانی کا سبب بن سکتی ہے۔
بیرون ملک ملازمت کیلئے محفوظ طریقہ
بیورو آف امیگریشن نے پاکستانی شہریوں کو مشورہ دیا ہے کہ بیرونِ ملک ملازمت کے لیے صرف لائسنس یافتہ اوورسیز ایمپلائمنٹ پروموٹر سے رابطہ کریں۔
ملازمت حاصل کرنے سے پہلے پروموٹر کے لائسنس، ملازمت کی پیشکش اور فارن سروس ایگریمنٹ کی سرکاری ذرائع سے تصدیق بھی ضروری ہے۔
حکام نے شہریوں کو ہدایت کی ہے کہ کسی غیر مجاز ایجنٹ، سب ایجنٹ یا سوشل میڈیا اکاؤنٹ کو رقم یا اصل دستاویزات نہ دیں۔ تمام ادائیگیاں قانونی طریقے سے کی جائیں اور باقاعدہ رسید ضرور حاصل کی جائے۔
روانگی سے پہلے درست ورک ویزا، تحریری ملازمت کا معاہدہ اور دیگر ضروری دستاویزات حاصل کرنا بھی ضروری قرار دیا گیا ہے۔ معاہدے پر دستخط سے قبل تنخواہ، ڈیوٹی، اوقات کار، رہائش، ٹرانسپورٹ طبی سہولت، چھٹیوں اور وطن واپسی کی شرائط بھی اچھی طرح سمجھنے کی ہدایت کی گئی ہے۔
بیورو کے مطابق بیرون ملک روانگی سے قبل متعلقہ پروٹیکٹر آف ایمیگرنٹس سے قانونی تحفظ حاصل کرنا بھی ضروری ہے تاکہ ملازمت کیلئے جانے والے پاکستانی شہری کو قانون کے مطابق تحفظ اور سہولت میسر رہے۔