پی ٹی آئی کا ممکنہ لانگ مارچ، عدالت نے فیصلہ سنا دیا
اسلام آباد ہائیکورٹ نے حکم دیا کہ کوئی بھی سرکاری افسر اپنے ماتحت اہلکاروں کو اسلام آباد کی طرف آنے والے کسی مارچ یا احتجاج میں شامل نہ ہونے دے۔ صوبوں کے وزیراعلیٰ یقینی بنائیں کہ سرکاری مشینری سیاسی جماعت کے احتجاج میں استعمال نہ ہو۔ صوبوں کے چیف سیکرٹریز، چیف کمشنر اسلام آباد اور انسپکٹر جنرلز فوری طور پر ہیلپ لائن قائم کریں۔
عدالت نے اپنے حکم میں کہا کہ چیف سیکرٹریز کے آرڈرز پر جو سرکاری افسر عملدرآمد نہ کرے اس کے خلاف محکمانہ کارروائی شروع کی جائے۔ صوبائی حکومتیں اس بات کو یقینی بنائیں کہ کسی بھی مارچ، جلوس یا ریلی کے لیے سرکاری وسائل استعمال نہ ہوں۔ وزرائے اعلیٰ یقینی بنائیں کہ کسی احتجاج میں عوامی فنڈز یا سرکاری افسران و اہلکاروں کو استعمال نہ کیا جائے۔
فیصلے کے مطابق جلوس یا ریلی میں سہولت فراہم کرنے کے لیے سرکاری گاڑیاں، مشینری یا دیگر سرکاری وسائل استعمال نہیں کیا جائے گا۔ کسی بھی سرکاری ملازم کو مارچ، جلوس یا ریلی میں شرکت پر مجبور نہیں کیا جائے گا۔ اسلام آباد کی انتظامیہ اور وزارتِ داخلہ شہریوں کے آئینی حقوق کے تحفظ کو یقینی بنائیں۔
یہ بھی پڑھیں: شیر افضل مروت کا سہیل آفریدی کیخلاف درخواست واپس لینے سے انکار
عدالت نے صوبوں کے چیف سیکریٹریز اور انسپکٹر جنرلز پولیس کو عدالتی ہدایات پر عمل درآمد یقینی بنانے کی ہدایت کی اور ساتھ ہی وفاقی سیکریٹری داخلہ، چیف کمشنر اسلام آباد اور آئی جی اسلام آباد کو بھی عدالتی احکامات پر عمل درآمد یقینی بنانے کی ہدایت جاری کی۔
عدالت نے ہدایات کے ساتھ درخواست نمٹا دی۔
قبل ازیں ہائیکورٹ نے پی ٹی آئی کے 27 ستمبر کو ممکنہ لانگ مارچ اور احتجاج کے خلاف کیس میں دلائل اور آئی جی خیبرپختونخوا کا بیان سننے کے بعد فیصلہ محفوظ کیا تھا۔
چیف جسٹس سردار سرفراز ڈوگر کی سربراہی میں 3 رکنی لارجر بینچ نے کیس کی سماعت کی، جس میں جسٹس اعظم خان اور جسٹس آصف بھی شامل تھے۔ ایڈووکیٹ جنرل اسلام آباد نوید ملک، پراسیکیوٹر جنرل منظور ججہ، آئی جی خیبرپختونخوا ذوالفقار حمید اور چیف سیکریٹری شہاب علی شاہ عدالت میں پیش ہوئے۔
چیف سیکریٹری اور آئی جی خیبرپختونخوا نے بیان حلفی عدالت میں جمع کرایا۔ ایڈووکیٹ جنرل اسلام آباد نوید ملک نے دلائل دیتے ہوئے بتایا کہ انہوں نے 2022 اور 2024 کے احتجاج کی ویڈیوز چلانے سے متعلق متفرق درخواست دائر کی ہے۔